السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: تفسير العرايا باب: بیعِ عرایا کی تفسیر کا بیان۔
حدیث نمبر: 10663
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ⦗٥٠٧⦘ أَنَّهُ قَالَ: " الْعَرِيَّةُ الرَّجُلُ يُعْرِي الرَّجُلَ النَّخْلَةَ أَوِ الرَّجُلُ يَسْتَثْنِي مِنْ مَالِهِ النَّخْلَةَ أَوِ الِاثْنَتَيْنِ لِيَأْكُلَهَا فَيَبِيعَهَا بِتَمْرٍ ".حافظ ثناء اللہ
عبد ربہ بن سعید انصاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ «الْعَرِيَّةُ» ”عریہ“ یہ ہے کہ آدمی، آدمی کو کھجور کا درخت عاریتاً دے دیتا ہے یا آدمی اپنے مال سے ایک یا دو درخت کھجور کے استثنا کر لیتا ہے تاکہ ان سے کھائے، تو وہ ان کو خشک کھجور کے بدلے خرید لیتا ہے۔