السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: ما جاء في النهي عن بيع الرطب بالتمر باب: تازہ کھجور کی خشک کھجور کے عوض بیع کی ممانعت کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 10563
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَيَّاشٍ، يَقُولُ: سَأَلْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ اشْتِرَاءِ السُّلْتِ، بِالتَّمْرِ، فَقَالَ سَعْدٌ: أَبَيْنَهُمَا فَضْلٌ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: لَا يَصْلُحُ، وَقَالَ سَعْدٌ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اشْتِرَاءِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَبَيْنَهُمَا فَضْلٌ؟ " قَالُوا: نَعَمِ الرُّطَبُ يَنْقُصُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَلَا يَصْلُحُ ".حافظ ثناء اللہ
ابو عیاش رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے تر کھجور کو خشک کھجور کے بدلے فروخت کرنے کے بارے میں پوچھا، تو سعد رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”کیا ان دونوں کے درمیان تفاضل ہوتا ہے؟“ انہوں نے کہا: ہاں۔ فرماتے ہیں: ”پھر درست نہیں ہے۔“ سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے تر کھجور کو خشک کے بدلے فروخت کرنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”کیا ان میں تفاضل ہوتا ہے؟“ انہوں نے کہا کہ تر کھجور کم ہوجاتی ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پھر درست نہیں ہے۔“