السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: ما جاء في النهي عن بيع الرطب بالتمر باب: تازہ کھجور کی خشک کھجور کے عوض بیع کی ممانعت کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 10564
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو الصَّيْرَفِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ رُطَبٍ بِتَمْرٍ، فَقَالَ: " أَيَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ؟ " قَالُوا: نَعَمْ، فَقَالَ: " لَا يُبَاعُ رُطَبٌ بِيَابِسٍ " وَهَذَا مُرْسَلٌ جَيِّدٌ شَاهِدٌ لِمَا تَقَدَّمَ.حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن ابی سلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے تر کھجور کے عوض خشک کھجور کو فروخت کرنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تر کھجور خشک ہونے کے بعد کم ہوجاتی ہیں؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے جواب دیا: ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر تر کھجور خشک کے بدلے فروخت نہ کی جائے۔“