السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: ما جاء في النهي عن بيع الرطب بالتمر باب: تازہ کھجور کی خشک کھجور کے عوض بیع کی ممانعت کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 10562
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ قَالَا: ثنا أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ الْحَافِظُ قَالَ: خَالَفَهُ مَالِكٌ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، وَالضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ رَوَوْهُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ وَلَمْ يَقُولُوا فِيهِ: " نَسِيئَةً "، وَاجْتِمَاعُ هَؤُلَاءِ الْأَرْبَعَةِ عَلَى خِلَافِ مَا رَوَاهُ يَحْيَى يَدُلُّ عَلَى ضَبْطِهِمْ لِلْحَدِيثِ وَفِيهِمْ إِمَامٌ حَافَظٌ وَهُوَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، قَالَ الشَّيْخُ: وَالْعِلَّةُ الْمَنْقُولَةُ فِي هَذَا الْخَبَرِ تَدُلُّ عَلَى خَطَأِ هَذِهِ اللَّفْظَةِ وَقَدْ رَوَاهُ عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ نَحْوَ رِوَايَةِ الْجَمَاعَةِ.حافظ ثناء اللہ
مالک، اسماعیل بن امیہ، ضحاک بن عثمان اور اسامہ بن زید، یہ سارے عبداللہ بن یزید سے نقل فرماتے ہیں، وہ ادھار کا لفظ بیان نہیں کرتے۔
ان چاروں کا یحییٰ کی روایت کے خلاف متفق ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ انہوں نے حدیث کو اچھی طرح محفوظ کیا ہے، اور ان میں ایک امام اور حافظ، مالک بن انس بھی ہیں۔ اس روایت میں منقول علت اس بات کی دلیل ہے کہ یہ لفظ غلط ہے۔