السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: رؤية الماء خلال صلاة افتتحها بالتيمم باب: اس نماز کے دوران پانی نظر آ جانے کا بیان جو تیمم سے شروع کی گئی ہو
حدیث نمبر: 1052
احْتَجَّ بَعْضُ أَصْحَابِنَا فِي ذَلِكَ بِعُمُومِ قَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَنْصَرِفْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا " وَبِعُمُومِ قَوْلِهِ فِي حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: " لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ شَيْءٌ وَادْرَءُوا مَا اسْتَطَعْتُمْ ".حافظ ثناء اللہ
ہمارے بعض اصحاب نے اس مسئلے میں نبی کریم ﷺ کے اس عمومی فرمان سے استدلال کیا ہے: ”وہ (نماز سے) نہ پھرے یہاں تک کہ کوئی آواز سن لے یا بو پا لے۔“
اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث میں آپ ﷺ کے اس عمومی فرمان سے بھی استدلال کیا ہے کہ: ”کوئی بھی چیز نماز کو نہیں توڑتی، اور تم سے جہاں تک ہو سکے (سامنے سے گزرنے والے کو) روکو۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا وُضُوءَ إِلَّا مِنْ صَوْتٍ أَوْ رِيحٍ " وَالِاسْتِدَلَالُ بِهَذَا الْحَدِيثِ فِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ لَا يَصِحُّ وَلَا بِحَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”وضو صرف آواز سے یا بدبو سے ٹوٹتا ہے۔“
(ب) اس مسئلے میں اس حدیث اور سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ والی روایت سے استدلال درست نہیں۔