السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: غسل الجنب ووضوء المحدث إذا وجد الماء بعد التيمم باب: تیمم کے بعد پانی مل جانے پر جنبی کے غسل کرنے اور بے وضو شخص کے وضو کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1051
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ ⦗٣٣٨⦘ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، فَذَكَرَهُ نَحْوَهُ فَقَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يَقُولُ: اجْتَمَعَتْ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَمٌ مِنْ غَنَمِ الصَّدَقَةِ وَلَمْ يَذْكُرِ الْإِبِلَ وَالْوَيْلَ وَالْبَاقِي بِمَعْنَاهُ.حافظ ثناء اللہ
خالد حذاء نے اسی طرح بیان کیا ہے، فرماتے ہیں: میں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس صدقہ کی بکریاں اکٹھی ہوئیں۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے «إِبِل» اور «وَيْل» کا ذکر نہیں کیا۔ باقی اسی کے معنی میں ہے۔