السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: ما يستدل به على رجوع من قال من الصدر الأول: لا ربا إلا في النسيئة عن قوله ونزوعه عنه باب: ان دلائل کا بیان جن سے قرونِ اولیٰ کے ان لوگوں کے اپنے قول ”سود صرف ادھار میں ہے“ سے رجوع کرنے اور اس سے باز آنے پر استدلال کیا جاتا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي شَمْخِ بْنِ فَزَارَةَ سَأَلَهُ عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَرَأَى أُمَّهَا فَأَعْجَبَتْهُ فَطَلَّقَ امْرَأَتَهُ أَيَتَزَوَّجُ أُمَّهَا؟ قَالَ: " لَا بَأْسَ " فَتَزَوَّجَهَا الرَّجُلُ، وَكَانَ عَبْدُ اللهِ عَلَى بَيْتِ الْمَالِ وَكَانَ يَبِيعُ نِفَايَةَ بَيْتِ الْمَالِ يُعْطِي الْكَثِيرَ وَيَأْخُذُ الْقَلِيلَ، حَتَّى قَدِمَ ⦗٤٦٣⦘ الْمَدِينَةَ فَسَأَلَ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: " لَا يَحِلُّ لِهَذَا الرَّجُلِ هَذِهِ الْمَرْأَةُ، وَلَا تَصْلُحُ الْفِضَّةُ إِلَّا وَزْنًا بِوَزْنٍ "، فَلَمَّا قَدِمَ عَبْدُ اللهِ انْطَلَقَ إِلَى الرَّجُلِ فَلَمْ يَجِدْهُ وَوَجَدَ قَوْمَهُ، فَقَالَ: " إِنَّ الَّذِي أَفْتَيْتُ بِهِ صَاحِبَكُمْ لَا يَحِلُّ "، فَقَالُوا: إِنَّهَا قَدْ نَثَرَتْ لَهُ بَطْنَهَا، قَالَ: وَإِنْ كَانَ وَأَتَى الصَّيَارِفَةَ، فَقَالَ: " يَا مَعْشَرَ الصَّيَارِفَةِ إِنَّ الَّذِي كُنْتُ أُبَايِعُكُمْ لَا يَحِلُّ، لَا تَحِلُّ الْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ إِلَّا وَزْنًا بِوَزْنٍ ".سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بنو شمخ بن فزارہ کے ایک آدمی نے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جس نے ایک عورت سے شادی کی، پھر اس کی والدہ کو دیکھا، وہ اس کو پسند آئی اور اچھی لگی تو اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ کیا وہ اس کی والدہ سے شادی کر لے؟ انہوں نے فرمایا: کوئی حرج نہیں ہے۔ اس مرد نے شادی کر لی اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیت المال کے محکمے میں تھے، وہ بیت المال کی ردی چیزیں زیادہ دے کر تھوڑی لے لیتے تھے۔ یہاں تک کہ وہ مدینہ آئے۔ انہوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے سوال کیا، انہوں نے کہا: اس شخص کے لیے یہ عورت جائز نہیں ہے اور چاندی کی فروخت بھی برابر برابر وزن میں کی جائے وگرنہ درست نہیں ہے۔ جب سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ واپس آئے تو اس آدمی کی طرف گئے، اس کو نہ پایا، لیکن اس کی قوم موجود تھی۔ انہوں نے کہا: جو فتویٰ میں نے تمہارے ساتھ کر دیا تھا وہ درست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ حاملہ ہو چکی ہے۔ انہوں نے فرمایا: اگرچہ وہ حاملہ بھی ہو چکی ہو۔ پھر وہ صرافوں (سکے تبدیل کرنے والے) کے پاس آئے اور فرمایا: اے صرافوں کی جماعت! بے شک وہ چیز جس پر میں نے تم سے بیعت لی تھی وہ جائز نہیں اور چاندی چاندی کے بدلے فروخت کرنا جائز نہیں مگر صرف برابر برابر۔