السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: جواز التفاضل في الجنسين، وأن البر والشعير جنسان مع تحريم النساء إذا جمعتهما علة واحدة في الربا باب: دو مختلف جنسوں میں کمی بیشی کے ساتھ تبادلے کے جواز اور اس بات کا بیان کہ گندم اور جَو دو الگ الگ جنسیں ہیں، نیز ادھار کی حرمت جب ان میں سود کی علتِ واحدہ جمع ہو جائے۔
حدیث نمبر: 10502
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَعْلَى، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ، وَالذَّهَبِ بِالذَّهَبِ إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ، وَأَمَرَنَا أَنْ نَشْتَرِيَ الْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ، وَنَشْتَرِيَ الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ كَيْفَ شِئْنَا " قَالَ: فَسَأَلَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَدًا بِيَدٍ؟، فَقَالَ: هَكَذَا سَمِعْتُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مَيْسَرَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ كِلَاهُمَا، عَنْ عَبَّادِ بْنِ الْعَوَّامِّ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکرہ اپنے والد (سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے چاندی چاندی کے عوض، سونا سونے کے بدلے فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے ماسوائے برابر، برابر اور ہمیں حکم دیا کہ ہم چاندی کو سونے کے بدلے اور سونے کو چاندی کے بدلے جیسے ہم چاہیں فروخت کریں۔ ایک آدمی نے سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”نقد بنقد“۔ فرماتے ہیں: اسی طرح میں نے سنا ہے۔