حدیث نمبر: 10500
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ أَبُو عَلِيٍّ الْمَاسَرْجِسِيُّ، ثنا جَدِّي أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ ابْنَةِ الْحَسَنِ بْنِ عِيسَى، ثنا جَدِّي الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنا يَعْقُوبُ بْنُ أَبِي الْقَعْقَاعِ، عَنْ مَعْرُوفِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الْجَوْزَاءِ، يَقُولُ: كُنْتُ أَخْدُمُ ابْنَ عَبَّاسٍ تِسْعَ سِنِينَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ عَنْ دِرْهَمٍ بِدِرْهَمَيْنِ فَصَاحَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَقَالَ: " إنَّ هَذَا يَأْمُرُنِي أَنْ أُطْعِمَهُ الرِّبَا "، فَقَالَ نَاسٌ حَوْلَهُ: إِنْ كُنَّا لَنَعْمَلُ هَذَا بِفُتْيَاكَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " قَدْ كُنْتُ أُفْتِي بِذَلِكَ حَتَّى حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ، وَابْنُ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ، فَأَنَا أَنْهَاكُمْ عَنْهُ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابوالجوزاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی نو سال خدمت کی۔ اچانک ایک آدمی آیا، اس نے ایک درہم کے عوض دو درہم لینے کے بارے میں سوال کیا، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما پہنچے اور فرمانے لگے: یہ مجھے حکم دیتا ہے کہ میں اس کو سود کھلاؤں۔ ان کے اردگرد جو لوگ تھے وہ کہنے لگے: ہم تو آپ کے فتوے کی بنیاد پر یہ کام کرتے تھے، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں اس کا فتویٰ دیا کرتا تھا، یہاں تک کہ مجھے سیدنا ابوسعید اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی ﷺ سے بیان کر دیا کہ آپ ﷺ نے ”اس سے منع کیا تھا“ اس وجہ سے میں بھی تمہیں منع کرتا ہوں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10500
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ ابن عساكر في تاريخ 14/ 292»