حدیث نمبر: 10499
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ، وَابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الصَّرْفِ، فَلَمْ يَرَيَا بِهِ بَأْسًا وَإِنِّي لَقَاعِدٌ عِنْدَ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فَسَأَلْتُهُ عَنِ الصَّرْفِ، فَقَالَ: " مَا زَادَ فَهُوَ رِبًا "، فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ لِقَوْلِهِمَا، فَقَالَ: لَا أُحَدِّثُكُمْ إِلَّا مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ صَاحِبُ نَخْلَةٍ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ طَيِّبٍ، وَكَانَ تَمْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ الدُّونَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّى لَكَ هَذَا؟ " قَالَ: انْطَلَقْتُ بِصَاعِي وَاشْتَرَيْتُ بِهِ هَذَا الصَّاعَ فَإِنَّ سِعْرَ هَذَا بِالسُّوقِ كَذَا وَسِعْرَ هَذَا بِالسُّوقِ كَذَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرْبَيْتَ إِذَا أَرَدْتَ ذَلِكَ فَبِعْ تَمْرَكَ بِسِلْعَةٍ، ثُمَّ اشْتَرِ بِسِلْعَتِكَ أِيَّ تَمْرٍ شِئْتَ " فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ أَحَقُّ أَنْ يَكُونَ رِبًا، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ، قَالَ: فَأَتَيْتُ ابْنَ عُمَرَ بَعْدُ فَنَهَانِي وَلَمْ آتِ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: فَحَدَّثَنِي أَبُو الصَّهْبَاءِ أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْهُ فَكَرِهَهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَقَالَ: وَكَانَ تَمْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا اللَّوْنَ.
حافظ ثناء اللہ

ابونضرہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے صرف کے متعلق سوال کیا، وہ دونوں اس میں حرج محسوس نہیں کرتے تھے۔ میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، میں نے ان سے صرف کے متعلق سوال کیا تو فرمانے لگے: جو زیادہ ہو وہ سود ہے، میں نے ان دونوں (سیدنا عبداللہ بن عمر اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما) کے قول کی وجہ سے انکار کر دیا تو سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں صرف تمہیں وہ بیان کروں گا جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا تھا۔ ایک کھجوروں والا ایک صاع عمدہ کھجوریں لے کر آیا، حالانکہ نبی ﷺ کی کھجوریں ردی قسم کی تھیں، آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کہاں سے؟“ اس نے کہا: میں اپنی کھجوروں کا دو صاع لے کر گیا اور میں نے یہ ایک صاع خرید لیا اور کہنے لگا: بازار میں اس کا یہ ریٹ ہے اور اس کا یہ۔۔۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو نے سود کا کام کیا ہے، جب تیرا یہ ارادہ تھا تو اپنی کھجوریں قیمت میں فروخت کرتا، پھر اس قیمت کے عوض جونسی مرضی کھجوریں خریدتا۔“ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کھجور کھجور کے عوض یہ زیادہ حق ہے کہ وہ سود ہو یا چاندی چاندی کے عوض۔ کہتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا تو انہوں نے مجھے منع کر دیا اور میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس نہ آیا۔
(ب) ابوصہباء کہتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا تو انہوں نے اس کو ناپسند کیا۔
(ج) اسحاق بن ابراہیم فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی کھجوریں اس رنگت کی تھیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10499
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 1594»