السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
جماع أبواب الربا -- باب: تحريم الربا، وأنه موضوع مردود إلى رأس المال باب: سود (ربا) کے ابواب کا جامع بیان۔ -- باب: سود کے حرام ہونے اور اس کے ساقط ہونے کا بیان، اور یہ کہ (سود کی صورت میں) صرف اصل مال ہی کی طرف لوٹا جائے گا۔
حدیث نمبر: 10466
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، فِي قَوْلِهِ {وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ} [البقرة: ٢٧٨] قَالَ: " كَانَ يَكُونُ لِرَجُلٍ عَلَى رَجُلٍ دَيْنٌ فَيَقُولُ: لَكَ زِيَادَةُ كَذَا وَكَذَا وَتُؤَخِّرُ عَنِّي ".حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے قول ﴿وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا﴾ [سورة البقرة: 278] ”اور تم چھوڑ دو جو باقی سود سے ہے“ کے متعلق فرماتے ہیں: کسی آدمی کا کسی پر قرض ہوتا تو وہ اس کو یہ کہتا کہ اتنے پیسے مزید دے دینا اور اتنے وقت کے بعد دے دینا۔