السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
جماع أبواب الربا -- باب: تحريم الربا، وأنه موضوع مردود إلى رأس المال باب: سود (ربا) کے ابواب کا جامع بیان۔ -- باب: سود کے حرام ہونے اور اس کے ساقط ہونے کا بیان، اور یہ کہ (سود کی صورت میں) صرف اصل مال ہی کی طرف لوٹا جائے گا۔
حدیث نمبر: 10465
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، ثنا شَبِيبُ بْنُ غَرْقَدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: " أَلَا إِنَّ كُلَّ رِبًا مِنْ رِبَا الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ، لَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ، أَلَا وَإِنَّ كُلَّ دَمٍ مِنْ دَمِ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ، وَأَوَّلُ دَمٍ أَضَعُ مِنْهَا دَمُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ كَانَ مُسْتَرْضَعًا فِي بَنِي لَيْثٍ فَقَتَلَتْهُ هُذَيْلٌ، اللهُمَّ قَدْ بَلَّغْتُ؟ " قَالُوا: نَعَمْ، ثَلَاثًا، قَالَ: " اللهُمَّ اشْهَدْ " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ.حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن عمرو اپنے والد (رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع میں نبی ﷺ سے سنا کہ ”جاہلیت کے تمام سود چھوڑ دیے گئے، تمہارے لیے تمہارا اصل مال ہے ﴿لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ﴾ [سورة البقرة: 279]۔ خبردار! جاہلیت کے تمام خون معاف کر دیے گئے اور پہلا خون جو میں معاف کرتا ہوں وہ حارث بن عبدالمطلب کا خون ہے جو بنو لیث میں دودھ پلائے جا رہے تھے، ہذیل والوں نے ان کو قتل کر دیا تھا، «اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ؟» ”اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا ہے؟““ آپ ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا: ”«اللَّهُمَّ اشْهَدْ» ”اے اللہ! تو گواہ رہ۔““ تین مرتبہ فرمایا۔