السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
جماع أبواب الربا -- باب: تحريم الربا، وأنه موضوع مردود إلى رأس المال باب: سود (ربا) کے ابواب کا جامع بیان۔ -- باب: سود کے حرام ہونے اور اس کے ساقط ہونے کا بیان، اور یہ کہ (سود کی صورت میں) صرف اصل مال ہی کی طرف لوٹا جائے گا۔
حدیث نمبر: 10467
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّهُ قَالَ: " كَانَ الرِّبَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ يَكُونَ لِلرَّجُلِ عَلَى الرَّجُلِ الْحَقُّ إِلَى أَجَلٍ فَإِذَا حَلَّ الْحَقُّ، قَالَ: أَتَقْضِي أَمْ تُرْبِي؟، فَإِنْ قَضَاهُ أَخَذَ وَإِلَّا زَادَهُ فِي حَقِّهِ وَزَادَهُ الْآخَرُ فِي الْأَجَلِ ".حافظ ثناء اللہ
زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں ایک آدمی کا دوسرے پر ایک متعین مدت پر قرض ہوتا تھا۔ جب مدت ختم ہو جاتی تو قرض دینے والا کہتا: کیا ادا کرو گے یا سود دو گے؟ اگر وہ ادا کر دیتا تو لے لیتا، وگرنہ اس کے ذمہ زیادہ کر دیتا اور دوسرا مدت میں اضافہ کر لیتا۔