السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
جماع أبواب الربا -- باب: تحريم الربا، وأنه موضوع مردود إلى رأس المال باب: سود (ربا) کے ابواب کا جامع بیان۔ -- باب: سود کے حرام ہونے اور اس کے ساقط ہونے کا بیان، اور یہ کہ (سود کی صورت میں) صرف اصل مال ہی کی طرف لوٹا جائے گا۔
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللهِ وَرَسُولِهِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ}.اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللهِ وَرَسُولِهِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ﴾ ”اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو اگر تم مومن ہو، پھر اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کا اعلان سن لو، اور اگر تم توبہ کر لو تو تمہارے لیے تمہارے اصل مال ہیں، نہ تم ظلم کرو گے اور نہ تم پر ظلم کیا جائے گا۔“ [سورة البقرة: 278-279]
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبِي، ثنا ⦗٤٥١⦘ عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، فِي حَجِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخُطْبَتِهِ بِعَرَفَةَ، قَالَ: فَقَالَ: يَعْنِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ حَرَامٌ عَلَيْكُمْ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، أَلَا وَإنَّ كُلَّ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ تَحْتَ قَدَمِيَّ هَاتَيْنِ، وَدِمَاءُ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعَةٌ، وَأَوَّلُ دَمٍ أَضَعُهُ دَمُ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ كَانَ مُسْتَرْضَعًا فِي بَنِي سَعْدٍ فَقَتَلَتْهُ هُذَيْلٌ فِي زَمَنِ الْجَاهِلِيَّةِ، وَرِبَا الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ، وَأَوَّلُ رِبًا أَضَعُهُ رِبَا الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَإِنَّهُ مَوْضُوعٌ كُلُّهُ " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ.جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی ﷺ کے حج اور عرفہ کے خطبہ کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے خون، تمہارے مال، تم پر ایسے حرام ہیں جیسے تمہارے اس شہر میں، اس مہینہ میں اس دن کی حرمت ہے اور خبردار! تمہارے جاہلیت کے دور کے تمام معاملات میرے ان قدموں کے تلے رکھ دیے گئے ہیں اور جاہلیت کے خون بھی چھوڑ دیے گئے ہیں اور سب سے پہلے میں ربیعہ بن حارث کا خون معاف کرتا ہوں جس کو ہذیل والوں نے قتل کر دیا تھا، جب وہ بنو سعد کے اندر دودھ پی رہے تھے اور جاہلیت کے سود بھی چھوڑ دیے گئے اور سب سے پہلے میں عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کا سود معاف کرتا ہوں۔ وہ مکمل چھوڑ دیا گیا۔“ اور ہمیں ابوعلی روذباری نے خبر دی، انہوں نے کہا ہمیں محمد بن بکر نے خبر دی، انہوں نے کہا ہمیں ابوداود نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں ابوالاحوص نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں شبیب بن غرقدہ نے سلیمان بن عمرو سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو حجۃ الوداع کے موقع پر فرماتے ہوئے سنا: «أَلَا إِنَّ كُلَّ رِبًا مِّنْ رِبَا الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ، لَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ، لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ، أَلَا وَإِنَّ كُلَّ دَمٍ مِّنْ دَمِ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ، وَأَوَّلُ دَمٍ أَضَعُ مِنْهَا دَمَ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، كَانَ مُسْتَرْضَعًا فِي بَنِي لَيْثٍ فَقَتَلَتْهُ هُذَيْلٌ، اللَّهُمَّ قَدْ بَلَّغْتُ» ”خبردار! جاہلیت کے سودوں میں سے ہر سود ختم کر دیا گیا ہے، تمہارے لیے تمہارے اصل اموال ہیں، نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔ خبردار! جاہلیت کے خونوں میں سے ہر خون ختم کر دیا گیا ہے اور ان میں سے پہلا خون جسے میں معاف کرتا ہوں وہ حارث بن عبدالمطلب کا خون ہے، وہ بنو لیث میں دودھ پی رہے تھے کہ انہیں ہذیل نے قتل کر دیا۔ اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا؟“ لوگوں نے تین مرتبہ کہا: جی ہاں! آپ ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا: «اللَّهُمَّ اشْهَدْ» ”اے اللہ! گواہ رہنا۔“
[صحیح لغیرہ۔ اخرجہ ابوداود: 3334]