السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: المأخوذ على طريق السوم وعلى بيع شرط فيه الخيار باب: جو چیز قیمت لگوا کر (بیعِ سوم) یا ایسی بیع پر لی جائے جس میں خیار (اختیار) کی شرط ہو۔
حدیث نمبر: 10463
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا سَيَّارٌ أَبُو الْحَكَمِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: أَخَذَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَرَسًا مِنْ رَجُلٍ عَلَى سَوْمٍ فَحَمَلَ عَلَيْهِ رَجُلًا فَعَطِبَ عِنْدَهُ فَخَاصَمَهُ الرَّجُلُ، فَقَالَ عُمَرُ: " اجْعَلْ بَيْنِي وَبَيْنَكَ رَجُلًا "، فَقَالَ الرَّجُلُ: فَإِنِّي أَرْضَى بِشُرَيْحٍ الْعِرَاقِيِّ، فَأَتَوْا شُرَيْحًا، فَقَالَ شُرَيْحٌ لِعُمَرَ: أَخَذْتَهُ صَحِيحًا سَلِيمًا وَأَنْتَ لَهُ ضَامِنٌ حَتَّى تَرُدَّهُ صَحِيحًا سَلِيمًا، فَأَعْجَبَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَبَعَثَهُ قَاضِيًا وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.حافظ ثناء اللہ
امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی سے گھوڑے کی قیمت متعین کی۔ اس پر ایک آدمی نے سواری کی۔ وہ گھوڑا اس کے پاس ہی ہلاک ہو گیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: چلو ایک آدمی اور اپنے درمیان فیصل مقرر کر لو، تو اس آدمی نے قاضی شریح عراقی رحمہ اللہ کا انتخاب کیا۔ وہ قاضی شریح رحمہ اللہ کے پاس آئے، شریح رحمہ اللہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: جب گھوڑا آپ نے صحیح سلامت لیا تھا تو آپ ہی ضامن ہیں، یہاں تک کہ آپ صحیح سلامت واپس کر دیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ان کا فیصلہ اچھا لگا اور ان کو قاضی بنا دیا۔