السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: الدليل على أن لا يجوز شرط الخيار في البيع أكثر من ثلاثة أيام باب: اس بات کی دلیل کہ خرید و فروخت میں تین دن سے زیادہ خیار (اختیار) کی شرط لگانا جائز نہیں ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو الشَّيْخِ الْأَصْبَهَانِيِّ، أنا إِسْحَاقُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ وَكَانَتْ بِلِسَانِهِ لُوثَةٌ يَشْكُو إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَا يَزَالُ يُغْبَنُ فِي الْبَيْعِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا بَايَعْتَ فَقُلْ لَا خِلَابَةَ ثُمَّ أَنْتَ بِالْخِيَارِ فِي كُلِّ سِلْعَةٍ ابْتَعْتَهَا ثَلَاثَ لَيَالٍ، فَإِنْ رَضِيتَ فَأَمْسِكْ وَإِنْ سَخِطْتَ فَارْدُدْ " قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَلَكَأَنِّي الْآنَ أَسْمَعُهُ إِذَا ابْتَاعَ يَقُولُ: لَا خِلَابَةَ يَلُوثُ لِسَانُهُ، قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، قَالَ: كَانَ جَدِّي مُنْقِذُ بْنُ عَمْرٍو وَكَانَ رَجُلًا قَدْ أُصِيبَ فِي رَأْسِهِ آمَّةً فَكَسَرَتْ لِسَانَهُ وَنَقَضَتْ عَقْلَهُ، وَكَانَ يُغْبَنُ فِي الْبُيُوعِ، وَكَانَ لَا يَدَعُ التِّجَارَةَ فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِذَا أَنْتَ بِعْتَ فَقُلْ: لَا خِلَابَةَ ثُمَّ أَنْتَ فِي كُلِّ بَيْعٍ تَبْتَاعُهُ بِالْخِيَارِ ثَلَاثَ لَيَالٍ إِنْ رَضِيتَ فَأَمْسِكْ، وَإِنْ سَخِطْتَ فَرُدَّ " فَبَقِيَ حَتَّى أَدْرَكَ زَمَانَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ ابْنُ مِائَةٍ وَثَلَاثِينَ سَنَةً، وَكَثُرَ النَّاسُ فِي زَمَانِ عُثْمَانَ فَكَانَ إِذَا اشْتَرَى شَيْئًا فَرَجَعَ بِهِ فَقَالُوا لَهُ: لِمَ تَشْتَرِي أَنْتَ؟ فَيَقُولُ: قَدْ جَعَلَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا ابْتَعْتُ بِالْخِيَارِ ثَلَاثًا، فَيَقُولُونَ: ارْدُدْهُ فَإِنَّكَ قَدْ غُبِنْتَ، أَوْ قَالَ: غُشِشْتَ، فَيَرْجِعُ إِلَى بَيِّعِهِ فَيَقُولُ: خُذْ سِلْعَتَكَ وَرُدَّ دَرَاهِمِي، فَيَقُولُ: لَا أَفْعَلُ قَدْ رَضِيتُ. فَذَهَبْتَ بِهِ حَتَّى يَمُرَّ بِهِ الرَّجُلُ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَعَلَهُ بِالْخِيَارِ فِيمَا يَبْتَاعُ ثَلَاثًا فَيَرُدُّ عَلَيْهِ دَرَاهِمَهُ وَيَأْخُذُ سِلْعَتَهُ..سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے ایک انصاری مرد سے سنا، اس کی زبان میں رکاوٹ تھی، اس نے نبی ﷺ سے بیع میں دھوکا ہو جانے کی شکایت کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب بیع کرو تو کہہ دیا کرو: دھوکا نہیں۔ پھر جو بھی سامان تو خریدے تو اس میں تجھے تین دن کا اختیار ہے؛ اگر تو پسند کرے تو رکھ لے، اگر ناپسند کرے تو واپس کر دے۔“ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اب میں اس سے سنتا ہوں، جب بھی وہ کوئی سامان خریدتا ہے تو کہہ دیتا ہے: ”دھوکا نہیں۔“ اس کی زبان میں لکنت تھی۔
(ب) محمد بن اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث محمد بن یحییٰ بن حبان رحمہ اللہ سے بیان کی تو انہوں نے کہا: میرے دادا منقذ بن عمرو رضی اللہ عنہ تھے، ان کو سر کا زخم آیا تھا، ان کی زبان ٹوٹ گئی، زبان میں لکنت ہو گئی، عقل کم ہو گئی، ان کو بیوع میں دھوکا ہو جاتا لیکن وہ تجارت نہ چھوڑتے تھے۔ انہوں نے نبی ﷺ سے شکایت کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تو سامان فروخت کرے تو کہہ دے: دھوکا نہیں، پھر تو ہر بیع میں کہہ دے کہ تجھے تین راتوں تک اختیار ہے، اگر تو پسند کرے تو رکھ لے، اگر ناپسند ہو تو واپس کر دو۔“
یہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور تک زندہ رہے، ان کی عمر 130 سال تھی۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں ایسے لوگوں کی کثرت ہو گئی۔ میں جب ان سے کچھ خریدتا تو واپس کر دیتا۔ وہ کہتے کہ آپ نہ خریدا کریں، منقذ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے کہ جو میں خریدوں رسول اللہ ﷺ نے مجھے تین دن کا اختیار دیا ہے، لوگ کہتے: واپس کر دو، آپ کو بیع میں دھوکا دیا گیا ہے، تو وہ سامان واپس کر دیتے اور کہتے کہ اپنا سامان لے لو، میرے درہم واپس کر دو۔ وہ کہتا: لے جاؤ، آپ نے پسند کیا تھا، جب کوئی دوسرا صحابی رضی اللہ عنہ پاس سے گزرتا تو وہ کہہ دیتے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو تین دن کا اختیار دے رکھا ہے جو وہ سامان خریدیں۔ پھر وہ اس کے درہم واپس کر دیتا اور اپنا سامان لے لیتا۔