حدیث نمبر: 10458
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ حَبَّانُ بْنُ مُنْقِذٍ رَجُلًا ضَعِيفًا، وَكَانَ قَدْ سُفِعَ فِي رَأْسِهِ مَأْمُومَةً، فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ الْخِيَارَ فِيمَا اشْتَرَى ثَلَاثًا وَكَانَ قَدْ ثَقُلَ لِسَانُهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بِعْ وَقُلْ لَا خِلَابَةَ " فَكُنْتُ أَسْمَعُهُ يَقُولُ: لَا خِذَابَةَ لَا خِذَابَةَ وَكَانَ يَشْتَرِي الشَّيْءَ، فَيَجِيءُ بِهِ أَهْلَهُ فَيَقُولُونَ هَذَا غَالٍ فَيَقُولُ: إنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيَّرَنِي فِي بَيْعِي.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حبان بن منقذ ایک کمزور آدمی تھے، ان کے سر پر گہرے زخم کا نشان تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو تین دن کا اختیار ہے جو چیز بھی خریدے۔“ ان کی زبان بھی درست نہ تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”فروخت کرو اور کہہ دو: دھوکا نہیں ہے۔“ میں ان سے سنتا تھا، وہ کہتے تھے: «لَا خِلَابَةَ، لَا خِلَابَةَ» ”دھوکا نہیں ہے، دھوکا نہیں ہے۔“ وہ چیز خرید کر اپنے گھر لاتے تو ان کے گھر والے کہتے: یہ مہنگی ہے، وہ کہتے کہ رسول اللہ ﷺ نے میری بیع میں مجھے اختیار دیا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10458
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ اخرجه الحاكم 2/26»