حدیث نمبر: 10433
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا تَبَايَعَ الرَّجُلَانِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، وَكَانَا جَمِيعًا أَوْ يُخَيِّرُ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ فَتَبَايَعَا ⦗٤٤٢⦘ عَلَى ذَلِكَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ، وَإِنْ تَفَرَّقَا بَعْدَ أَنْ يَتَبَايَعَا وَلَمْ يَتْرُكْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا الْبَيْعَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَيْبَةَ وَمُحَمَّدِ بْنِ رُمْحٍ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب دو آدمی بیع کریں تو دونوں میں سے ہر ایک کو سودا ختم کرنے کا اختیار ہے جب تک وہ جدا نہ ہوں یا انہوں نے ایک دوسرے کو اختیار دے رکھا ہو، اس پر بیع کریں تو بیع واجب ہوگی۔ اگر بیع کے بعد دونوں الگ الگ ہو گئے، کسی نے بھی بیع کو ترک نہیں کیا، پھر بھی بیع واجب ہو جائے گی۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب البيوع / حدیث: 10433