السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: : المتبايعان بالخيار ما لم يتفرقا إلا بيع الخيار باب: ”خریدنے اور بیچنے والے دونوں فریقوں کو اس وقت تک (سودا منسوخ کرنے کا) اختیار ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں، سوائے بیعِ خیار کے“۔
حدیث نمبر: 10434
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنا جَعْفَرٌ الْفَارَيَابِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ، وَأَبُو كَامِلٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، قَالَوا: أنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، أَوْ يَقُولُ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: اخْتَرْ " قَالَ: وَرُبَّمَا قَالَ: " أَوْ يَكُونُ خِيَارٌ "، لَفْظُ حَدِيثِ الْمُقْرِئِ وَفِي رِوَايَةِ الْأَدِيبِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ بَيْعَ خِيَارٍ، أَوْ يَقُولَ لِصَاحِبِهِ: اخْتَرْ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي النُّعْمَانِ، عَنْ حَمَّادٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ، وَأَبِي كَامِلٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”خریدنے اور بیچنے والے کو الگ ہونے سے پہلے سودا ختم کرنے کا اختیار ہے یا بعض اوقات کہہ دے کہ اختیار ہے۔“
(ب) ادیب کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”خریدنے اور بیچنے والے کو الگ ہونے سے پہلے سودا ختم کرنے کا اختیار ہے۔ سوائے اس کے کہ دونوں کے درمیان بیع اختیاری ہو یا وہ اپنے ساتھی سے کہہ دے کہ مجھے اختیار ہے۔“