السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: : المتبايعان بالخيار ما لم يتفرقا إلا بيع الخيار باب: ”خریدنے اور بیچنے والے دونوں فریقوں کو اس وقت تک (سودا منسوخ کرنے کا) اختیار ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں، سوائے بیعِ خیار کے“۔
حدیث نمبر: 10432
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ الْمُتَبَايِعَيْنِ بِالْخِيَارِ فِي بَيْعِهِمَا مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْبَيْعُ خِيَارًا " قَالَ: فَقَالَ نَافِعٌ: وَكَانَ عَبْدُ اللهِ إِذَا اشْتَرَى الشَّيْءَ يُعْجِبُهُ فَارَقَ صَاحِبَهُ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ صَدَقَةَ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى وَغَيْرِهِ، وَرَوَاهُ الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ نَافِعٍ بِمَعْنَاهُ فِي فِعْلِ عَبْدِ اللهِ وَالرِّوَايَةُ جَمِيعًا.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”خریدنے اور بیچنے والے کو آپس میں الگ ہونے سے پہلے سودا ختم کرنے کا اختیار ہوگا، یا پھر دونوں کے درمیان بیع اختیاری ہو۔“ نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب کسی سے کوئی چیز خرید لیتے اور بیع پکی کرنا چاہتے تو اپنے ساتھی سے جدا ہو جاتے۔