السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: : المتبايعان بالخيار ما لم يتفرقا إلا بيع الخيار باب: ”خریدنے اور بیچنے والے دونوں فریقوں کو اس وقت تک (سودا منسوخ کرنے کا) اختیار ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں، سوائے بیعِ خیار کے“۔
حدیث نمبر: 10431
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، وَاللَّفْظُ لِلْحُمَيْدِيِّ، قَالَ: أنا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَتَيْتُ نَافِعًا فَطَرَحَ إِلِيَّ حَقِيبَةً فَجَلَسْتُ عَلَيْهَا فَأَمْلَى عَلَيَّ فِي أَلْوَاحِي، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا تَبَايَعَ الْمُتَبَايِعَانِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مِنْ بَيْعِهِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، أَوْ يَكُونُ بَيْعُهُمَا عَنْ خِيَارٍ " قَالَ: فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا تَبَايَعَ الْبَيْعَ فَأَرَادَ أَنْ يَجُبَّ مَشَى قَلِيلًا، ثُمَّ رَجَعَ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، وَابْنِ أَبِي عُمَرَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”خریدنے اور بیچنے والے کو آپس میں الگ ہونے سے پہلے سودا ختم کرنے کا اختیار ہوگا یا پھر دونوں کے درمیان بیع اختیاری ہو۔“ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب بیع فرماتے اور ان کا ارادہ ہوتا کہ بیع پکی ہو جائے تو تھوڑا سا چل کر واپس آ جاتے۔