السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: الدعاء إذا سافر باب: سفر شروع کرتے وقت کی جانے والی دعا کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْقَاسِمِ جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الصُّوفِيُّ الرَّازِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي حَاتِمٍ، ثنا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، ثنا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسَاوِرٍ الْعِجْلِيِّ، عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَمْ يُرِدْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَفَرًا إِلَّا قَالَ حِينَ يَنْهَضُ مِنْ جُلُوسِهِ: " اللهُمَّ بِكَ انْتَشَرْتُ، وَإِلَيْكَ تَوَجَّهْتُ، ⦗٤١١⦘ وَبِكَ اعْتَصَمْتُ، أَنْتَ ثِقَتِي وَرَجَائِي، اللهُمَّ اكْفِنِي مَا أَهَمَّنِي وَمَا لَا أَهْتَمُّ بِهِ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، اللهُمَّ زَوِّدْنِي التَّقْوَى، وَاغْفِرْ لِي ذَنْبِي وَوَجِّهْنِي إِلَى الْخَيْرِ حَيْثُ مَا تَوَجَّهْتُ " ثُمَّ يَخْرُجُ هَكَذَا يَقُولُهُ الْعَوَّامُّ: " بِكَ انْتَشَرْتُ " وَأَبُو سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِيُّ رَحِمَهُ اللهُ كَانَ يَقُولُ: الصَّحِيحُ " ابْتَسَرْتُ " يَعْنِي ابْتَدَأْتُ سَفَرِي.سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب بھی رسول اللہ ﷺ نے سفر کا ارادہ کیا تو جب اپنی جگہ سے کھڑے ہوتے تو فرماتے: «اللَّهُمَّ بِكَ انْتَشَرْتُ، وَإِلَيْكَ تَوَجَّهْتُ، وَبِكَ اعْتَصَمْتُ، أَنْتَ ثِقَتِي وَرَجَائِي، اللَّهُمَّ اكْفِنِي مَا أَهَمَّنِي وَمَا لَا أَهْتَمُّ بِهِ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، اللَّهُمَّ زَوِّدْنِي التَّقْوَى، وَاغْفِرْ لِي ذَنْبِي، وَوَجِّهْنِي إِلَى الْخَيْرِ حَيْثُمَا تَوَجَّهْتُ» ”اے اللہ! تیری مدد سے میں (سفر کے لیے) نکلا، تیری ہی طرف میں نے رخ کیا اور تیرا ہی سہارا میں نے پکڑا، تو ہی میرا بھروسا اور میری امید ہے۔ اے اللہ! مجھے ان باتوں سے کافی ہو جا جو مجھے فکر میں ڈالیں اور جن کی میں فکر نہیں کرتا اور جنہیں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے۔ اے اللہ! مجھے تقویٰ کا زادِ راہ عطا فرما، میرا گناہ معاف فرما اور میں جدھر بھی رخ کروں مجھے بھلائی کی طرف متوجہ فرما۔“ پھر (سفر کے لیے) نکل جاتے۔
عام لوگ اسی طرح «بِكَ انْتَشَرْتُ» کہتے ہیں، جبکہ ابو سلیمان خطابی رحمہ اللہ فرماتے تھے: صحیح «ابْتَسَرْتُ» ہے، یعنی میں نے اپنا سفر شروع کیا۔