السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: : لا يصير الإنسان بتقليد الهدي وإشعاره وهو لا يريد الإحرام محرما باب: انسان قربانی کے جانوروں کو پٹہ ڈالنے اور نشان زد کرنے سے محرم نہیں بن جاتا درآں حالیکہ وہ احرام کا ارادہ نہ رکھتا ہو۔
حدیث نمبر: 10189
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثنا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: " إِنْ كُنْتُ لَأَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَبْعَثُ بِهَا وَهُوَ مُقِيمٌ مَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُ الْمُحْرِمُ وَكَانَ بَلَغَهَا أَنَّ زِيَادَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ أَهْدَى وَتَجَرَّدَ، قَالَ: فَقَالَتْ هَلْ كَانَ لَهُ كَعْبَةٌ يَطُوفُ بِهَا فَإِنَّا لَا نَعْلَمُ أَحَدًا تُحَرَّمُ عَلَيْهِ الثِّيَابُ تَحِلُّ لَهُ حَتَّى يَطُوفَ بِالْكَعْبَةِ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامٍ مُخْتَصَرًا.حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نبی ﷺ کی قربانیوں کے قلادے بناتی تھی، آپ ﷺ ان کو بیت اللہ کی طرف روانہ کر دیتے اور خود مقیم رہتے، آپ ﷺ ان اشیاء سے اجتناب نہ فرماتے جن سے محرم بچتا ہے۔ انہیں یہ خبر پہنچی کہ زیاد بن ابی سفیان نے قربانی روانہ کی اور (احرام والوں کی طرح) کپڑے اتار دیے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کیا اس کے لیے کوئی کعبہ ہے کہ وہ اس کا طواف کرے؟ ہم کسی ایسے شخص کو نہیں جانتے جس پر کپڑے حرام ہو جائیں (پھر) اس کے لیے حلال ہوں یہاں تک کہ وہ کعبہ کا طواف کر لے۔