السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: : لا يصير الإنسان بتقليد الهدي وإشعاره وهو لا يريد الإحرام محرما باب: انسان قربانی کے جانوروں کو پٹہ ڈالنے اور نشان زد کرنے سے محرم نہیں بن جاتا درآں حالیکہ وہ احرام کا ارادہ نہ رکھتا ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثنا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: " إِنْ كُنْتُ لَأَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَبْعَثُ بِهَا وَهُوَ مُقِيمٌ مَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُ الْمُحْرِمُ وَكَانَ بَلَغَهَا أَنَّ زِيَادَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ أَهْدَى وَتَجَرَّدَ، قَالَ: فَقَالَتْ هَلْ كَانَ لَهُ كَعْبَةٌ يَطُوفُ بِهَا فَإِنَّا لَا نَعْلَمُ أَحَدًا تُحَرَّمُ عَلَيْهِ الثِّيَابُ تَحِلُّ لَهُ حَتَّى يَطُوفَ بِالْكَعْبَةِ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامٍ مُخْتَصَرًا.عمرہ بنت عبدالرحمن رحمہا اللہ فرماتی ہیں کہ زیاد نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو خط لکھا کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”جس نے قربانی روانہ کی اس پر وہ تمام کام حرام ہیں جو حج کرنے والے پر، یہاں تک کہ قربانی کو دی جائے اور میں نے اپنی قربانی روانہ کر دی ہے تو آپ اپنا فتویٰ لکھ کر دیں یا قربانی والے کو حکم دیں“، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”بات ایسے نہیں جیسے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہی ہے، میں رسول اللہ ﷺ کی قربانیوں کے قلادے اپنے ہاتھ سے بناتی تھی، پھر رسول اللہ ﷺ اپنے ہاتھوں سے قلادے پہناتے تھے، پھر اپنی قربانی میرے والد کے ساتھ روانہ کر دیتے تو رسول اللہ ﷺ پر تو کوئی چیز حرام نہ ہوتی تھی جو اللہ نے ان کے لیے جائز رکھی ہے، قربانی ہونے تک۔“