حدیث نمبر: 10188
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ النَّضْرِ الْحَرْشِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدُ اللهِ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، ثنا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: فَتَلْتُ قَلَائِدَ بُدْنِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي ثُمَّ أَشْعَرَهَا وَقَلَّدَهَا، ثُمَّ بَعَثَ بِهَا إِلَى الْبَيْتِ وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ فَمَا حُرِّمَ عَلَيْهِ شَيْءٌ كَانَ لَهُ حَلَالًا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْلَمَةَ.
حافظ ثناء اللہ

ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کی قربانیوں کے قلادے بناتی تھی، آپ ﷺ ان کو بیت اللہ کی طرف روانہ کر دیتے اور خود مقیم رہتے، آپ ﷺ ان اشیاء سے اجتناب نہ فرماتے جن سے محرم بچتا ہے۔ زیاد بن ابی سفیان نے قربانی روانہ کی اور احرام نہ باندھا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کیا اس کے لیے کوئی کعبہ ہے کہ وہ اس کا طواف کرے؟ ہم کسی ایک کو بھی نہیں جانتے کہ وہ کہتا ہو کہ حرام کپڑے اس کے لیے جائز قرار دیتا ہو جب تک بیت اللہ کا طواف نہ کرے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10188
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 1321»