السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: : لا يصير الإنسان بتقليد الهدي وإشعاره وهو لا يريد الإحرام محرما باب: انسان قربانی کے جانوروں کو پٹہ ڈالنے اور نشان زد کرنے سے محرم نہیں بن جاتا درآں حالیکہ وہ احرام کا ارادہ نہ رکھتا ہو۔
حدیث نمبر: 10188
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ النَّضْرِ الْحَرْشِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدُ اللهِ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، ثنا أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: فَتَلْتُ قَلَائِدَ بُدْنِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي ثُمَّ أَشْعَرَهَا وَقَلَّدَهَا، ثُمَّ بَعَثَ بِهَا إِلَى الْبَيْتِ وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ فَمَا حُرِّمَ عَلَيْهِ شَيْءٌ كَانَ لَهُ حَلَالًا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْلَمَةَ.حافظ ثناء اللہ
قاسم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی قربانیوں کے قلادے اپنے ہاتھ سے بناتی تھی، پھر آپ ﷺ ان کو اشعار کرتے اور قلادے پہناتے، پھر بیت اللہ کی طرف روانہ کرتے اور مدینہ میں قیام فرماتے؛ جو چیز آپ ﷺ کے لیے حلال ہوتی تھی آپ ﷺ پر حرام نہ ہوتی تھی۔