السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: تجليل الهدايا وما يفعل بجلالها وجلودها باب: قربانی کے جانوروں پر جھولیں ڈالنے اور ان کی جھولوں اور کھالوں کے ساتھ جو کیا جائے اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 10186
قَالَ: وَحَدَّثَنَا مَالِكٌ أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللهِ بْنَ دِينَارٍ: مَا كَانَ يَصْنَعُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بِجِلَالِ بُدْنِهِ حِينَ كُسِيَتِ الْكَعْبَةُ هَذِهِ الْكِسْوَةَ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللهِ يَتَصَدَّقُ بِهَا ".حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما قربانیوں کے جھول پھاڑتے نہ تھے اور نہ ہی جھول پہناتے تھے، یہاں تک کہ منیٰ کی صبح جب عرفہ کی طرف جاتے۔ دوسروں نے اس میں اضافہ کیا ہے کہ صرف کوہان کی جگہ پر جب نحر کرتے تو جھول اتار لیتے اس ڈر سے کہ کہیں خون اس کو خراب نہ کر دے، پھر اس کو صدقہ کر دیتے۔