السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: جواز الذكر والأنثى في الهدايا باب: قربانی (ہدی) میں نر اور مادہ کے جواز کا بیان۔
حدیث نمبر: 10158
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ قُوهِيَارَ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " سَاقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةَ بَدَنَةٍ فِيهَا جَمَلٌ لِأَبِي جَهْلٍ " وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَاخْتُلِفَ عَلَيْهِ فِي مَتْنِهِ وَفِيمَا ذَكَرْنَا كِفَايَةٌ.حافظ ثناء اللہ
مقسم سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے حدیبیہ کے دن ستر اونٹ نحر کیے، اس میں ابوجہل کا بھی اونٹ تھا۔ جب ان کو بیت اللہ سے روک دیا گیا تو وہ ایسے رو رہے تھے جیسے اونٹنی اپنے بچے کے اشتیاق میں آواز نکالتی ہے۔