السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: جواز الذكر والأنثى في الهدايا باب: قربانی (ہدی) میں نر اور مادہ کے جواز کا بیان۔
حدیث نمبر: 10156
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحٍ الْهَاشِمِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الْمُسْتَعِينِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَلِيٍّ الْمَدِينِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: كُنْتُ أَرَى أَنَّ هَذَا مِنْ صَحِيحِ حَدِيثِ ابْنِ إِسْحَاقَ فَإِذَا هُوَ قَدْ دَلَّسَهُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ لَا أَتَّهِمُ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ عَلِيٌّ: فَإِذَا الْحَدِيثُ مُضْطَرِبٌ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ.حافظ ثناء اللہ
علی بن المدینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں سمجھتا تھا کہ یہ ابن اسحاق کی صحیح حدیث میں سے ہے، لیکن معلوم ہوا کہ انہوں نے اس میں تدلیس کی ہے؛ محمد بن اسحاق کہتے ہیں: مجھے اس شخص نے بیان کیا جس پر میں تہمت نہیں لگاتا، وہ ابن ابی نجیح سے، وہ مجاہد سے اور وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے۔ علی بن المدینی کہتے ہیں: تو یہ حدیث مضطرب ہے۔