السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: من نذر هديا لم يسمه أو لزمه هدي ليس يجزي من صيد فلا يجزيه من الإبل والبقر الأنثى فصاعدا باب: جس نے قربانی کی نذر مانی اور اس کا نام متعین نہ کیا، یا اس پر ایسی قربانی لازم ہوئی جو شکار کا بدلہ نہ ہو، تو اسے اونٹ اور گائے میں سے مادہ یا اس سے اوپر کے سوا کچھ کفایت نہیں کرے گا۔
حدیث نمبر: 10153
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَذْبَحُوا إِلَّا مُسِنَّةً إِلَّا أَنْ يَعْسُرَ عَلَيْكُمْ فَتَذْبَحُوا الْجَذَعَةَ مِنَ الضَّأْنِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دو دانت والا جانور ہی قربان کرو، اگر تنگی ہو (یعنی جانور ملے نہ) تو پھر بھیڑ کا کھیرا بھی کر سکتے ہو۔“