السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: من نذر هديا فسمى شيئا فعليه ما سمى صغيرا كان أو كبيرا باب: جس نے قربانی کی نذر مانی اور کسی چیز کا نام لیا تو اس پر وہی (قربان کرنا) لازم ہے جس کا اس نے نام لیا، چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا۔
حدیث نمبر: 10152
اسْتِدْلَالًا بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَغَيْرُهُ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَكَ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ ⦗٣٧٥⦘ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْأَغَرُّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ كَانَ عَلَى كُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ مَلَائِكَةٌ يَكْتُبُونَ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ، فَإِذَا جَلَسَ الْإِمَامُ طَوَوِا الصُّحُفَ، وَجَاءُوا يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ، فَمَثَلُ الْمُهَجِّرِ كَالَّذِي يُهْدِي بَدَنَةً، ثُمَّ كَالَّذِي يُهْدِي بَقَرَةً، ثُمَّ كَالَّذِي يُهْدِي الْكَبْشَ، ثُمَّ كَالَّذِي يُهْدِي الدَّجَاجَةَ، ثُمَّ كَالَّذِي يُهْدِي الْبَيْضَةَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ وَغَيْرِهِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو مساجد کے دروازوں پر فرشتے ہوتے ہیں، وہ پہلے آنے والوں کو درج کرتے ہیں، جب امام منبر پر تشریف رکھتا ہے تو وہ اپنے صحیفے بند کر لیتے ہیں اور ذکر کو سنتے ہیں، جلدی آنے والا ایسے ہے جیسے اونٹ کی قربانی دیتا ہے، اس کے بعد آنے والے کو گائے کی قربانی کا ثواب ملتا ہے، پھر اس کے بعد آنے والے کو مینڈھے کی قربانی کا ثواب، پھر اس کے بعد مرغی کے صدقہ کا ثواب، پھر اس کے بعد آنے والے کو انڈہ صدقہ کرنے کا ثواب ملتا ہے۔“