السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: من نذر هديا لم يسمه أو لزمه هدي ليس يجزي من صيد فلا يجزيه من الإبل والبقر الأنثى فصاعدا باب: جس نے قربانی کی نذر مانی اور اس کا نام متعین نہ کیا، یا اس پر ایسی قربانی لازم ہوئی جو شکار کا بدلہ نہ ہو، تو اسے اونٹ اور گائے میں سے مادہ یا اس سے اوپر کے سوا کچھ کفایت نہیں کرے گا۔
حدیث نمبر: 10154
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ: " فِي الضَّحَايَا وَالْبُدْنِ الثَّنِيُّ فَمَا فَوْقَهُ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ کے سال ابوجہل کا اونٹ قربانی کیا، اس کے سر یعنی ناک میں چاندی کی نکیل تھی اور یہ ابوجہل سے بدر کے مقام پر چھینا گیا تھا۔
(ب) یزید بن زریع کی روایت میں ہے کہ اس کے ناک میں سونے کی نکیل تھی۔
(ج) محمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ اس کے ناک میں چاندی یا سونے کی نکیل تھی۔