السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: المرأة تنهى عن كل سفر لا يلزمها بغير محرم باب: عورت کو محرم کے بغیر ہر ایسے سفر سے روکا جائے گا جو اس پر لازم نہ ہو۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَزْوَاجِهِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: " إِنَّمَا هِيَ هَذِهِ ثُمَّ ظُهُورُ الْحَصْرِ " قَالَ: ⦗٣٧٣⦘ فَكَانَ كُلُّهُنَّ يُسَافِرْنَ إِلَّا زَيْنَبَ وَسَوْدَةَ فَإِنَّهُمَا قَالَتَا: لَا تُحَرِّكُنَا دَابَّةٌ بَعْدَمَا سَمِعْنَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَابَعَهُ صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ نَبْهَانَ، وَرَوَيْنَاهُ فِي أَوَّلِ الْكِتَابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَمَنَعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجَّ؛ لِقَوْلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا هِيَ هَذِهِ الْحِجَّةُ، ثُمَّ ظُهُورُ الْحَصْرِ "، قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ رَوَيْنَا فِي أَوَّلِ كِتَابِ الْحَجِّ فِي بَابُ حَجِّ النِّسَاءِ، عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ أَذِنَ لَهُنَّ فِي الْحَجِّ فِي آخِرِ حَجَّةٍ حَجَّهَا وَبَعَثَ مَعَهُنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، وَفِيهِ وَفِي حَجِّ سَائِرِ النِّسَاءِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْمُرَادَ بِقَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَذِهِ ثُمَّ ظُهُورُ الْحَصْرِ " أَنْ لَا يَجِبُ الْحَجُّ إِلَّا مَرَّةً، وَاخْتَارَ لَهُنَّ تَرْكَ السَّفَرِ بَعْدَ أَدَاءِ الْوَاجِبِ.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے وقت اپنی بیویوں سے فرمایا: ”بس یہی حج ہے اس کے بعد محصور ہو کر رہنا ہے۔“
زینب اور سودہ رضی اللہ عنہما کے علاوہ تمام سفر کر لیتی تھیں۔ وہ دونوں فرماتی ہیں: ”رسول اللہ ﷺ سے یہ سننے کے بعد کوئی سواری ہمیں حرکت نہیں دے گی۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے امہات المومنین کو رسول اللہ ﷺ کے اس قول کی وجہ سے حج سے منع کر دیا کہ: ”بس یہی حج ہے اس کے بعد محصور ہو کر رہنا ہے۔“
شیخ فرماتے ہیں: ہم نے کتاب الحج کے شروع میں باب حج النساء میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے اپنے آخری حج میں ان کو حج کی اجازت دے دی اور ان کے ساتھ سیدنا عثمان بن عفان اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما کو روانہ کیا، اس میں اور باقی ازواج کے حج کرنے میں اس بات کی دلیل ہے کہ آپ ﷺ کے فرمان «هَذِهِ ثُمَّ ظُهُورُ الْحُصُرِ» سے مراد یہ ہے کہ حج صرف ایک مرتبہ واجب ہے، اور آپ ﷺ نے ان کے لیے واجب کی ادائیگی کے بعد سفر ترک کرنا پسند فرمایا۔