کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: عورت کو محرم کے بغیر ہر ایسے سفر سے روکا جائے گا جو اس پر لازم نہ ہو۔
حدیث نمبر: 10136
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ يَعْنِي الشَّيْبَانِيَّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ح وَأنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالُوا: ثنا يَحْيَى، ثنا عُبَيْدُ اللهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُسَافِرِ الْمَرْأَةُ ثَلَاثًا إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی عورت تین دن کا سفر نہ کرے مگر اس کے ساتھ اس کا والد، بھائی، بیٹا یا کوئی محرم ہو۔“
(ب) قزعہ بن یحییٰ، سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں، وہ دو میں سے کسی ایک روایت میں کہتے ہیں: ”تین سے اوپر۔“ ایک دوسری روایت میں ”دو دن“ ہے۔
(ب) قزعہ بن یحییٰ، سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں، وہ دو میں سے کسی ایک روایت میں کہتے ہیں: ”تین سے اوپر۔“ ایک دوسری روایت میں ”دو دن“ ہے۔
حدیث نمبر: 10137
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُسَافِرِ امْرَأَةٌ سَفَرًا يَكُونُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَصَاعِدًا إِلَّا وَمَعَهَا أَبُوهَا، أَوْ أَخُوهَا، أَوِ ابْنُهَا، أَوْ ذُو مَحْرَمٍ مِنْهَا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَرَوَاهُ قَزَعَةُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، فَقَالَ فِي إِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ عَنْهُ: " فَوْقَ ثَلَاثٍ "، وَقَالَ فِي الرِّوَايَةِ الْأُخْرَى: " يَوْمَيْنِ "، وَرَوَاهُ أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے جائز نہیں جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتی ہو کہ وہ ایک دن اور رات کا سفر بغیر محرم کے کرے۔“
حدیث نمبر: 10138
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ الْوَرَّاقُ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ⦗٣٧٢⦘ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللهِ، وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تُسَافِرُ مَسِيرَةَ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ مِنْهَا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَرَوَاهُ بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
حدیث نمبر: 10139
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، ثنا مَالِكٌ، فَذَكَرَهُ. وَكَذَلِكَ قَالَهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَقَدْ مَضَى فِي كِتَابِ الصَّلَاةِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے بغیر محرم کے ایک رات کی مسافت کا سفر کرنا جائز نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 10140
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الشَّيْبَانِيُّ، إِمْلَاءً، ثنا حُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ مَسْلَمَةٍ تُسَافِرُ مَسِيرَةَ لَيْلَةٍ إِلَّا وَمَعَهَا رَجُلٌ ذُو حُرْمَةِ مَحْرَمٍ مِنْهَا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے بغیر محرم کے ایک دن کی مسافت کا سفر کرنا جائز نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 10141
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُسَافِرَ مَسِيرَةَ يَوْمٍ إِلَّا وَمَعَهَا مَحْرَمٌ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ آدَمَ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہما اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اپنی ازواجِ مطہرات کے لیے فرمایا: ”بس یہی حج ہے، اس کے بعد محصور ہو کر رہنا ہے۔“
حدیث نمبر: 10142
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ أَبِي قَمَّاشٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، أنا الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِنِسَائِهِ فِي حَجَّتِهِ: " هَذِهِ ثُمَّ ظُهُورُ الْحَصْرِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے وقت اپنی بیویوں سے فرمایا: ”بس یہی حج ہے اس کے بعد محصور ہو کر رہنا ہے۔“
زینب اور سودہ رضی اللہ عنہما کے علاوہ تمام سفر کر لیتی تھیں۔ وہ دونوں فرماتی ہیں: ”جب سے ہم نے نبی ﷺ سے یہ سنا ہے سواری نے ہمیں حرکت نہیں دی۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے امہات المومنین کو حج سے منع کر دیا نبی ﷺ کے اس قول کے بعد کہ: ”بس یہی حج ہے اس کے بعد محصور ہو کر رہنا ہے۔“
شیخ فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو آخری حج میں اجازت دے دی اور ان کے ساتھ سیدنا عثمان بن عفان اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما کو روانہ کیا اور تمام عورتوں نے حج کیا تو آپ ﷺ کے اس قول «هَذِهِ ثُمَّ ظُهُورُ الْحُصُرِ» کہ ”حج صرف ایک مرتبہ واجب ہے“ سے مراد یہ ہے کہ واجب کی ادائیگی کے بعد سفر کو ترک کرنے کا اختیار ہے۔
زینب اور سودہ رضی اللہ عنہما کے علاوہ تمام سفر کر لیتی تھیں۔ وہ دونوں فرماتی ہیں: ”جب سے ہم نے نبی ﷺ سے یہ سنا ہے سواری نے ہمیں حرکت نہیں دی۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے امہات المومنین کو حج سے منع کر دیا نبی ﷺ کے اس قول کے بعد کہ: ”بس یہی حج ہے اس کے بعد محصور ہو کر رہنا ہے۔“
شیخ فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو آخری حج میں اجازت دے دی اور ان کے ساتھ سیدنا عثمان بن عفان اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما کو روانہ کیا اور تمام عورتوں نے حج کیا تو آپ ﷺ کے اس قول «هَذِهِ ثُمَّ ظُهُورُ الْحُصُرِ» کہ ”حج صرف ایک مرتبہ واجب ہے“ سے مراد یہ ہے کہ واجب کی ادائیگی کے بعد سفر کو ترک کرنے کا اختیار ہے۔
حدیث نمبر: 10143
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَزْوَاجِهِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: " إِنَّمَا هِيَ هَذِهِ ثُمَّ ظُهُورُ الْحَصْرِ " قَالَ: ⦗٣٧٣⦘ فَكَانَ كُلُّهُنَّ يُسَافِرْنَ إِلَّا زَيْنَبَ وَسَوْدَةَ فَإِنَّهُمَا قَالَتَا: لَا تُحَرِّكُنَا دَابَّةٌ بَعْدَمَا سَمِعْنَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَابَعَهُ صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ نَبْهَانَ، وَرَوَيْنَاهُ فِي أَوَّلِ الْكِتَابِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَمَنَعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجَّ؛ لِقَوْلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا هِيَ هَذِهِ الْحِجَّةُ، ثُمَّ ظُهُورُ الْحَصْرِ "، قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ رَوَيْنَا فِي أَوَّلِ كِتَابِ الْحَجِّ فِي بَابُ حَجِّ النِّسَاءِ، عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ أَذِنَ لَهُنَّ فِي الْحَجِّ فِي آخِرِ حَجَّةٍ حَجَّهَا وَبَعَثَ مَعَهُنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، وَفِيهِ وَفِي حَجِّ سَائِرِ النِّسَاءِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْمُرَادَ بِقَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَذِهِ ثُمَّ ظُهُورُ الْحَصْرِ " أَنْ لَا يَجِبُ الْحَجُّ إِلَّا مَرَّةً، وَاخْتَارَ لَهُنَّ تَرْكَ السَّفَرِ بَعْدَ أَدَاءِ الْوَاجِبِ.
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم بن سعد اپنے والد (اور وہ اپنے) دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کی ازواجِ مطہرات کو حج کی اجازت دے دی۔ ان کے ساتھ سیدنا عثمان بن عفان اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما کو روانہ کیا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آواز دیتے تھے کہ ان کے قریب کوئی نہ جائے اور ان کی طرف کوئی نہ دیکھے مگر دور سے۔ وہ اونٹنیوں پر ہودج میں ہوتیں اور گھاٹی کی ابتدا میں ان کو اتارا جاتا تھا، سیدنا عبدالرحمن بن عوف اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما ان کے پیچھے اترتے تھے، ان کی طرف کوئی نہ جاتا تھا۔
حدیث نمبر: 10144
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ، ثنا بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ الْمَرْوَزِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَذِنَ لِأَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَجِّ وَبَعَثَ مَعَهُنَّ عُثْمَانَ، وَابْنَ عَوْفٍ فَنَادَى عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالنَّاسِ: " لَا يَدْنُ مِنْهُنَّ أَحَدٌ وَلَا يَنْظُرْ إِلَيْهِنَّ إِلَّا مَدَّ الْبَصَرِ وَهُنَّ فِي الْهَوَادِجِ عَلَى الْإِبِلِ " وَأَنْزَلَهُنَّ صَدْرَ الشِّعْبِ، وَنَزَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بِذَنَبِهِ فَلَمْ يَصْعَدْ إِلَيْهِنَّ أَحَدٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ﴿أَیَّامٍ مَّعْلُوْمَاتٍ﴾ [سورة الحج: 28] (معلوم ایام) دس ہیں اور ﴿أَیَّامٍ مَّعْدُوْدَاتٍ﴾ [سورة البقرة: 203] (معدودات) سے مراد ایامِ تشریق ہیں (یعنی ۱۱، ۱۲، ۱۳ ذوالحجہ کے دن)۔