حدیث نمبر: 10142
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ أَبِي قَمَّاشٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، أنا الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِنِسَائِهِ فِي حَجَّتِهِ: " هَذِهِ ثُمَّ ظُهُورُ الْحَصْرِ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے وقت اپنی بیویوں سے فرمایا: ”بس یہی حج ہے اس کے بعد محصور ہو کر رہنا ہے۔“
زینب اور سودہ رضی اللہ عنہما کے علاوہ تمام سفر کر لیتی تھیں۔ وہ دونوں فرماتی ہیں: ”جب سے ہم نے نبی ﷺ سے یہ سنا ہے سواری نے ہمیں حرکت نہیں دی۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے امہات المومنین کو حج سے منع کر دیا نبی ﷺ کے اس قول کے بعد کہ: ”بس یہی حج ہے اس کے بعد محصور ہو کر رہنا ہے۔“
شیخ فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو آخری حج میں اجازت دے دی اور ان کے ساتھ سیدنا عثمان بن عفان اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما کو روانہ کیا اور تمام عورتوں نے حج کیا تو آپ ﷺ کے اس قول «هَذِهِ ثُمَّ ظُهُورُ الْحُصُرِ» کہ ”حج صرف ایک مرتبہ واجب ہے“ سے مراد یہ ہے کہ واجب کی ادائیگی کے بعد سفر کو ترک کرنے کا اختیار ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10142
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره۔ اخرجه يعلي: 7154۔ والطيالسي 1647»