حدیث نمبر: 10130
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، أنا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ أَبُو عَاصِمٍ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ بِشْرٍ، ثنا أَبُو مُجَاهِدٍ الطَّائِيُّ، ثنا مُحِلُّ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَهُ رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا يَشْكُو الْعَيْلَةَ، وَالْآخَرُ يَشْكُو قَطْعَ السَّبِيلِ، قَالَ: فَقَالَ: " لَا يَأْتِي عَلَيْكَ إِلَّا قَلِيلٌ حَتَّى تَخْرُجَ الْمَرْأَةُ مِنَ الْحِيرَةِ إِلَى مَكَّةَ بِغَيْرِ خَفِيرٍ، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَطُوفَ أَحَدُكُمْ بِصَدَقَتِهِ فَلَا يَجِدُ مَنْ يَقْبَلُهَا، ثُمَّ لَيَفِيضُ الْمَالُ، ثُمَّ لَيَقِفَنَّ أَحَدُكُمْ بَيْنَ يَدَيِ اللهِ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ حِجَابٌ يَحْجُبُهُ وَلَا تُرْجُمَانٌ فَيُتَرْجِمُ لَهُ فَيَقُولُ: أَلَمْ أُوتِكَ مَالًا؟ فَيَقُولُ: بَلَى، فَيَقُولُ: أَلَمْ أُرْسِلْ إِلَيْكَ رَسُولًا: فَيَقُولُ: بَلَى فَيَنْظُرُ عَنْ يَمِينِهِ فَلَا يَرَى إِلَّا النَّارَ، وَيَنْظُرُ عَنْ يَسَارِهِ فَلَا يَرَى إِلَّا النَّارَ، فَلْيَتَّقِ أَحَدُكُمُ النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْهَا فَبِكَلِمَةٍ طَيْبَةٍ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے پاس تھے۔ ایک آدمی نے آکر فاقے کی اور دوسرے نے راستے کاٹے جانے کی شکایت کی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عدی بن حاتم! کیا آپ نے حیرہ دیکھا ہے؟“ میں نے کہا: نہیں دیکھا، لیکن میں اس کے بارے میں خبر دیا گیا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تیری زندگی لمبی ہوئی تو تو دیکھے گا ایک عورت حیرہ سے کوچ کر کے کعبہ کا طواف کرے گی، اس کو صرف اللہ کا خوف ہوگا۔“ میں نے اپنے دل ہی میں کہا کہ قبیلہ طئی کے ڈاکو کہاں جائیں گے، جنہوں نے شہروں کو آگ لگا رکھی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تیری زندگی لمبی ہوئی تو کسریٰ کے خزانے فتح کیے جائیں گے“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کسریٰ بن ہرمز! آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، کسریٰ بن ہرمز۔ اگر تیری زندگی لمبی ہوئی تو تو دیکھے گا کہ آدمی ایک مٹھی سونے یا چاندی کی لے کر نکلے گا تو اس کو قبول کرنے والا کوئی نہ ملے گا اور تم میں سے کوئی ایک جس دن اللہ سے ملاقات کرے گا تو اللہ اور بندے کے درمیان کوئی ترجمان نہ ہوگا جو ان کے درمیان ترجمانی کرے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: کیا میں نے تیری طرف رسول نہ مبعوث کیے کہ جنہوں نے میری بات پہنچائی؟ بندہ کہے گا: کیوں نہیں، وہ اپنے دائیں جانب دیکھے گا تو صرف آگ اور اپنے بائیں جانب دیکھے گا تو صرف آگ۔“
عدی کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ ”آگ سے بچو، چاہے کھجور کے ایک ٹکڑے کے ساتھ ہی۔ اگر کھجور کا ٹکڑا نہ ملے تو اچھی بات کہہ دینا۔“ عدی کہتے ہیں کہ میں نے ایک عورت کو دیکھا اس نے کوفہ سے کوچ کیا اور بیت اللہ کا طواف کیا، اس کو صرف اللہ کا خوف تھا اور میں اس وقت بھی تھا جب کسریٰ بن ہرمز کے خزانے فتح کیے گئے۔ اگر تمہاری زندگی لمبی ہوئی تو عنقریب تم دیکھو گے جو ابوالقاسم ﷺ نے فرمایا کہ ”آدمی ایک مٹھی بھر سونا یا چاندی لے کر نکلے گا اور اس کو قبول کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ کا قولِ قدیم ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ان کی لونڈی نے سفر کیا، نہ تو وہ اس کے محرم تھے اور نہ ہی اس کے ساتھ کوئی محرم تھا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10130
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 3400»