السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: المرأة يلزمها الحج بوجود السبيل إليه وكانت مع ثقة من النساء في طريق مأهولة آمنة باب: عورت پر راستے کی استطاعت ہونے کی صورت میں حج لازم ہے جبکہ وہ ایک پرامن اور آباد راستے پر قابلِ اعتماد عورتوں کے ہمراہ ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، أنا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ أَبُو عَاصِمٍ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ بِشْرٍ، ثنا أَبُو مُجَاهِدٍ الطَّائِيُّ، ثنا مُحِلُّ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَهُ رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا يَشْكُو الْعَيْلَةَ، وَالْآخَرُ يَشْكُو قَطْعَ السَّبِيلِ، قَالَ: فَقَالَ: " لَا يَأْتِي عَلَيْكَ إِلَّا قَلِيلٌ حَتَّى تَخْرُجَ الْمَرْأَةُ مِنَ الْحِيرَةِ إِلَى مَكَّةَ بِغَيْرِ خَفِيرٍ، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَطُوفَ أَحَدُكُمْ بِصَدَقَتِهِ فَلَا يَجِدُ مَنْ يَقْبَلُهَا، ثُمَّ لَيَفِيضُ الْمَالُ، ثُمَّ لَيَقِفَنَّ أَحَدُكُمْ بَيْنَ يَدَيِ اللهِ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ حِجَابٌ يَحْجُبُهُ وَلَا تُرْجُمَانٌ فَيُتَرْجِمُ لَهُ فَيَقُولُ: أَلَمْ أُوتِكَ مَالًا؟ فَيَقُولُ: بَلَى، فَيَقُولُ: أَلَمْ أُرْسِلْ إِلَيْكَ رَسُولًا: فَيَقُولُ: بَلَى فَيَنْظُرُ عَنْ يَمِينِهِ فَلَا يَرَى إِلَّا النَّارَ، وَيَنْظُرُ عَنْ يَسَارِهِ فَلَا يَرَى إِلَّا النَّارَ، فَلْيَتَّقِ أَحَدُكُمُ النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْهَا فَبِكَلِمَةٍ طَيْبَةٍ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ.سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس تھا کہ دو آدمی آئے، ایک فقیری و محتاجی کی اور دوسرا راستے کے کاٹے جانے (یعنی ڈاکوؤں کے پریشان کرنے) کی شکایت کر رہا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تھوڑا وقت ہی گزرے گا کہ ایک عورت حیرہ شہر سے مکہ کا سفر بغیر کسی محافظ کے کرے گی اور قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تم میں سے کوئی اپنا صدقہ لیے گھومے گا لیکن قبول کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔ پھر مال زیادہ ہو جائے گا۔ پھر تم میں سے کوئی اللہ کے سامنے کھڑا ہوگا۔ اللہ اور اس کے بندے کے درمیان حجاب نہ ہوگا اور نہ ہی کوئی ترجمان ہوگا۔ اللہ پوچھے گا: کیا میں نے تجھے مال نہ دیا تھا؟ وہ کہے گا: کیوں نہیں، اللہ پوچھے گا: کیا میں نے تیری طرف رسول مبعوث نہ کیا تھا؟ بندہ کہے گا: کیوں نہیں، بندہ اپنے دائیں دیکھے گا تو آگ ہی آگ نظر آئے گی اور بائیں دیکھے گا تو آگ ہی آگ نظر آئے گی، لہٰذا تم میں سے ہر ایک اپنے آپ کو آگ سے بچا لے اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی دے۔ اگر یہ بھی نہ پائے تو اچھی بات کہہ دے۔“