کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: عورت پر راستے کی استطاعت ہونے کی صورت میں حج لازم ہے جبکہ وہ ایک پرامن اور آباد راستے پر قابلِ اعتماد عورتوں کے ہمراہ ہو۔
حدیث نمبر: 10129
قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا} [آل عمران: 97] وَرُوِّينَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّ السَّبِيلَ الزَّادُ وَالرَّاحِلَةُ ".
حافظ ثناء اللہ
اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ﴿وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا﴾ ”اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج (فرض) ہے، جو بھی اس کی طرف راستے کی استطاعت رکھتا ہو۔“ [سورة آل عمران: 97]
اور ہمیں نبی کریم ﷺ سے روایت پہنچی ہے کہ: ”(استطاعتِ) راہ سے مراد زادِ راہ اور سواری ہے۔“
اور ہمیں نبی کریم ﷺ سے روایت پہنچی ہے کہ: ”(استطاعتِ) راہ سے مراد زادِ راہ اور سواری ہے۔“
حدیث نمبر: 10129
وَذَلِكَ فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو صَادِقٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ الْمَخْزُومِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ سَمِعَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا} [آل عمران: ٩٧] قَالَ: " الزَّادُ وَالرَّاحِلَةُ " وَرُوِّينَا مِنْ أَوْجُهٍ صَحِيحَةٍ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا وَفِيهِ قُوَّةٌ لِهَذَا الْمُسْنَدِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس تھا کہ دو آدمی آئے، ایک فقیری و محتاجی کی اور دوسرا راستے کے کاٹے جانے (یعنی ڈاکوؤں کے پریشان کرنے) کی شکایت کر رہا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تھوڑا وقت ہی گزرے گا کہ ایک عورت حیرہ شہر سے مکہ کا سفر بغیر کسی محافظ کے کرے گی اور قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تم میں سے کوئی اپنا صدقہ لیے گھومے گا لیکن قبول کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔ پھر مال زیادہ ہو جائے گا۔ پھر تم میں سے کوئی اللہ کے سامنے کھڑا ہوگا۔ اللہ اور اس کے بندے کے درمیان حجاب نہ ہوگا اور نہ ہی کوئی ترجمان ہوگا۔ اللہ پوچھے گا: کیا میں نے تجھے مال نہ دیا تھا؟ وہ کہے گا: کیوں نہیں، اللہ پوچھے گا: کیا میں نے رسول مبعوث نہ کیے تھے؟ بندہ کہے گا: کیوں نہیں، بندہ اپنے دائیں بائیں دیکھے گا تو آگ ہی آگ نظر آئے گی، لہٰذا تم میں سے ہر ایک اپنے آپ کو آگ سے بچا لے اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی دے۔ اگر یہ بھی نہ پائے تو اچھی بات کہہ دے۔“
حدیث نمبر: 10130
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، أنا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ أَبُو عَاصِمٍ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ بِشْرٍ، ثنا أَبُو مُجَاهِدٍ الطَّائِيُّ، ثنا مُحِلُّ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَهُ رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا يَشْكُو الْعَيْلَةَ، وَالْآخَرُ يَشْكُو قَطْعَ السَّبِيلِ، قَالَ: فَقَالَ: " لَا يَأْتِي عَلَيْكَ إِلَّا قَلِيلٌ حَتَّى تَخْرُجَ الْمَرْأَةُ مِنَ الْحِيرَةِ إِلَى مَكَّةَ بِغَيْرِ خَفِيرٍ، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَطُوفَ أَحَدُكُمْ بِصَدَقَتِهِ فَلَا يَجِدُ مَنْ يَقْبَلُهَا، ثُمَّ لَيَفِيضُ الْمَالُ، ثُمَّ لَيَقِفَنَّ أَحَدُكُمْ بَيْنَ يَدَيِ اللهِ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ حِجَابٌ يَحْجُبُهُ وَلَا تُرْجُمَانٌ فَيُتَرْجِمُ لَهُ فَيَقُولُ: أَلَمْ أُوتِكَ مَالًا؟ فَيَقُولُ: بَلَى، فَيَقُولُ: أَلَمْ أُرْسِلْ إِلَيْكَ رَسُولًا: فَيَقُولُ: بَلَى فَيَنْظُرُ عَنْ يَمِينِهِ فَلَا يَرَى إِلَّا النَّارَ، وَيَنْظُرُ عَنْ يَسَارِهِ فَلَا يَرَى إِلَّا النَّارَ، فَلْيَتَّقِ أَحَدُكُمُ النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْهَا فَبِكَلِمَةٍ طَيْبَةٍ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی ﷺ کے پاس تھے۔ ایک آدمی نے آکر فاقے کی اور دوسرے نے راستے کاٹے جانے کی شکایت کی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عدی بن حاتم! کیا آپ نے حیرہ دیکھا ہے؟“ میں نے کہا: نہیں دیکھا، لیکن میں اس کے بارے میں خبر دیا گیا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تیری زندگی لمبی ہوئی تو تو دیکھے گا ایک عورت حیرہ سے کوچ کر کے کعبہ کا طواف کرے گی، اس کو صرف اللہ کا خوف ہوگا۔“ میں نے اپنے دل ہی میں کہا کہ قبیلہ طئی کے ڈاکو کہاں جائیں گے، جنہوں نے شہروں کو آگ لگا رکھی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تیری زندگی لمبی ہوئی تو کسریٰ کے خزانے فتح کیے جائیں گے“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کسریٰ بن ہرمز! آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، کسریٰ بن ہرمز۔ اگر تیری زندگی لمبی ہوئی تو تو دیکھے گا کہ آدمی ایک مٹھی سونے یا چاندی کی لے کر نکلے گا تو اس کو قبول کرنے والا کوئی نہ ملے گا اور تم میں سے کوئی ایک جس دن اللہ سے ملاقات کرے گا تو اللہ اور بندے کے درمیان کوئی ترجمان نہ ہوگا جو ان کے درمیان ترجمانی کرے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: کیا میں نے تیری طرف رسول نہ مبعوث کیے کہ جنہوں نے میری بات پہنچائی؟ بندہ کہے گا: کیوں نہیں، وہ اپنے دائیں جانب دیکھے گا تو صرف آگ اور اپنے بائیں جانب دیکھے گا تو صرف آگ۔“
عدی کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ ”آگ سے بچو، چاہے کھجور کے ایک ٹکڑے کے ساتھ ہی۔ اگر کھجور کا ٹکڑا نہ ملے تو اچھی بات کہہ دینا۔“ عدی کہتے ہیں کہ میں نے ایک عورت کو دیکھا اس نے کوفہ سے کوچ کیا اور بیت اللہ کا طواف کیا، اس کو صرف اللہ کا خوف تھا اور میں اس وقت بھی تھا جب کسریٰ بن ہرمز کے خزانے فتح کیے گئے۔ اگر تمہاری زندگی لمبی ہوئی تو عنقریب تم دیکھو گے جو ابوالقاسم ﷺ نے فرمایا کہ ”آدمی ایک مٹھی بھر سونا یا چاندی لے کر نکلے گا اور اس کو قبول کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ کا قولِ قدیم ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ان کی لونڈی نے سفر کیا، نہ تو وہ اس کے محرم تھے اور نہ ہی اس کے ساتھ کوئی محرم تھا۔
عدی کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ ”آگ سے بچو، چاہے کھجور کے ایک ٹکڑے کے ساتھ ہی۔ اگر کھجور کا ٹکڑا نہ ملے تو اچھی بات کہہ دینا۔“ عدی کہتے ہیں کہ میں نے ایک عورت کو دیکھا اس نے کوفہ سے کوچ کیا اور بیت اللہ کا طواف کیا، اس کو صرف اللہ کا خوف تھا اور میں اس وقت بھی تھا جب کسریٰ بن ہرمز کے خزانے فتح کیے گئے۔ اگر تمہاری زندگی لمبی ہوئی تو عنقریب تم دیکھو گے جو ابوالقاسم ﷺ نے فرمایا کہ ”آدمی ایک مٹھی بھر سونا یا چاندی لے کر نکلے گا اور اس کو قبول کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ کا قولِ قدیم ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ان کی لونڈی نے سفر کیا، نہ تو وہ اس کے محرم تھے اور نہ ہی اس کے ساتھ کوئی محرم تھا۔
حدیث نمبر: 10131
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: ثنا النَّضْرُ، أنا إِسْرَائِيلُ، أنا سَعْدٌ الطَّائِيُّ، ثنا مُحِلُّ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَتَاهُ رَجُلٌ فَشَكَا إِلَيْهِ الْفَاقَةَ، وَأَتَاهُ آخَرُ فَشَكَا قَطْعَ السَّبِيلِ، قَالَ: " يَا عَدِيُّ بْنَ حَاتِمٍ هَلْ رَأَيْتَ الْحِيرَةَ؟ " قُلْتُ: لَمْ أَرَهَا وَقَدْ أُنْبِئْتُ عَنْهَا، قَالَ: " فَإِنْ طَالَتْ بِكَ حَيَاةٌ لَتَرَيَنَّ الظَّعِينَةَ تَرْتَحِلُ مِنَ الْحِيرَةِ حَتَّى تَطُوفَ بِالْكَعْبَةِ لَا تَخَافُ أَحَدًا إِلَّا اللهَ " قُلْتُ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَ نَفْسِي: فَأَيْنَ دُعَّارُ طَيِّئٍ الَّذِينَ قَدْ سَعَّرُوا الْبِلَادَ " وَلَئِنْ طَالَتْ بِكَ حَيَاةٌ لَتُفْتَحَنَّ كُنُوزُ كِسْرَى " قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ كِسْرَى بْنُ هُرْمُزَ قَالَ: " كِسْرَى بْنُ هُرْمُزَ، وَلَئِنْ طَالَتْ بِكَ حَيَاةٌ لَتَرَيَنَّ الرَّجُلَ يُخْرِجُ مِلْءَ كَفَّيْهِ مِنْ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ يَطْلُبُ مَنْ يَقْبَلُهُ مِنْهُ فَلَا يَجِدُ أَحَدًا يَقْبَلُهُ مِنْهُ، وَلَيَلْقَيَنَّ اللهَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ يَلْقَاهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تُرْجُمَانٌ يُتَرْجِمُ لَهُ، فَيَقُولُ: أَلَمْ أَبْعَثْ إِلَيْكَ رَسُولًا يُبَلِّغُكَ؟ فَيَقُولُ: بَلَى، فَيَنْظُرُ عَنْ يَمِينِهِ فَلَا يَرَى إِلَّا جَهَنَّمَ، وَيَنْظُرُ عَنْ شِمَالِهِ فَلَا يَرَى إِلَّا جَهَنَّمَ " قَالَ عَدِيٌّ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ شِقَّ تَمْرَةٍ فَبِكَلِمَةٍ طَيْبَةٍ " قَالَ عَدِيٌّ: قَدْ رَأَيْتُ الظَّعِينَةَ تَرْتَحِلُ مِنَ ⦗٣٧٠⦘ الْكُوفَةِ حَتَّى تَطُوفَ بِالْبَيْتِ لَا تَخَافُ إِلَّا اللهَ، وَكُنْتُ فِيمَنِ افْتَتَحَ كُنُوزَ كِسْرَى بْنِ هُرْمُزَ وَلَئِنْ طَالَتْ بِكُمْ حَيَاةٌ سَتَرَوْنَ مَا قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُخْرِجُ الرَّجُلُ مِلْءَ كَفِّهِ مِنْ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ فَلَا يَجِدُ مَنْ يَقْبَلُهُ مِنْهُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ شُمَيْلٍ، قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي الْقَدِيمِ: وَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّ ابْنَ عُمَرَ سَافَرَ بِمَوْلَاةٍ لَهُ لَيْسَ هُوَ لَهَا بِمَحْرَمٍ وَلَا مَعَهَا مَحْرَمٌ.
حافظ ثناء اللہ
نافع، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کی لونڈی صفیہ ان کے ساتھ پیچھے بیٹھ کر مکہ کا سفر کرتی تھیں۔
(ب) عقبہ کی روایت میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی لونڈی نے ان کے ساتھ اونٹ کی پشت پر حج کا سفر کیا، اس کا نام صفیہ تھا۔
امام شافعی رحمہ اللہ کا جدید قول ہے: فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عورت بغیر محرم کے سفر کر سکتی ہے۔
(ب) عقبہ کی روایت میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی لونڈی نے ان کے ساتھ اونٹ کی پشت پر حج کا سفر کیا، اس کا نام صفیہ تھا۔
امام شافعی رحمہ اللہ کا جدید قول ہے: فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عورت بغیر محرم کے سفر کر سکتی ہے۔
حدیث نمبر: 10132
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعْدٍ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، " أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يُرْدِفُ مَوْلَاةً لَهُ يُقَالُ لَهَا: صَفِيَّةُ تُسَافِرُ مَعَهُ إِلَى مَكَّةَ " وَفِي رِوَايَةِ عُقْبَةَ " أَنَّ ابْنَ عُمَرَ حَجَّ بِمَوْلَاةٍ لَهُ يُقَالُ لَهَا صَافِيَةُ عَلَى عَجُزِ بَعِيرٍ " قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي الْجَدِيدِ: وَقَدْ بَلَغَنَا عَنْ عَائِشَةَ وَابْنِ عُمَرَ وَعُرْوَةَ مِثْلُ قَوْلِنَا فِي أَنْ تُسَافِرَ الْمَرْأَةُ لِلْحَجِّ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهَا مَحْرَمٌ، وَذَكَرَهُ أَيْضًا عَنْ عَطَاءٍ وَفِي الْقَدِيمِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ابو سعید رضی اللہ عنہ فتویٰ دیتے تھے کہ عورت بغیر محرم کے سفر نہ کرے، وہ فرماتی ہیں: ”کیا ان سب کے محرم ہیں؟“
حدیث نمبر: 10133
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمْرَةَ أَنَّ عَائِشَةَ أُخْبِرَتْ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ يُفْتِي أَنَّ الْمَرْأَةَ لَا تُسَافِرُ إِلَّا مَعَ مَحْرَمٍ فَقَالَتْ: " مَا كُلُّهُنَّ مِنْ ذَوَاتِ مَحْرَمٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ ارشاد فرمایا: ”کوئی مرد عورت کے ساتھ خلوت اختیار نہ کرے اور عورت صرف محرم کے ساتھ سفر کرے۔“ ایک آدمی کھڑا ہوا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میری عورت حج کو گئی ہے اور میں فلاں غزوہ میں لکھا گیا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی عورت کے ساتھ حج کر۔“