السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: المرأة يلزمها الحج بوجود السبيل إليه وكانت مع ثقة من النساء في طريق مأهولة آمنة باب: عورت پر راستے کی استطاعت ہونے کی صورت میں حج لازم ہے جبکہ وہ ایک پرامن اور آباد راستے پر قابلِ اعتماد عورتوں کے ہمراہ ہو۔
قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا} [آل عمران: 97] وَرُوِّينَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّ السَّبِيلَ الزَّادُ وَالرَّاحِلَةُ ".اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ﴿وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا﴾ ”اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج (فرض) ہے، جو بھی اس کی طرف راستے کی استطاعت رکھتا ہو۔“ [سورة آل عمران: 97]
اور ہمیں نبی کریم ﷺ سے روایت پہنچی ہے کہ: ”(استطاعتِ) راہ سے مراد زادِ راہ اور سواری ہے۔“
وَذَلِكَ فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو صَادِقٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ الْمَخْزُومِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ سَمِعَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا} [آل عمران: ٩٧] قَالَ: " الزَّادُ وَالرَّاحِلَةُ " وَرُوِّينَا مِنْ أَوْجُهٍ صَحِيحَةٍ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا وَفِيهِ قُوَّةٌ لِهَذَا الْمُسْنَدِ.سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس تھا کہ دو آدمی آئے، ایک فقیری و محتاجی کی اور دوسرا راستے کے کاٹے جانے (یعنی ڈاکوؤں کے پریشان کرنے) کی شکایت کر رہا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تھوڑا وقت ہی گزرے گا کہ ایک عورت حیرہ شہر سے مکہ کا سفر بغیر کسی محافظ کے کرے گی اور قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تم میں سے کوئی اپنا صدقہ لیے گھومے گا لیکن قبول کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔ پھر مال زیادہ ہو جائے گا۔ پھر تم میں سے کوئی اللہ کے سامنے کھڑا ہوگا۔ اللہ اور اس کے بندے کے درمیان حجاب نہ ہوگا اور نہ ہی کوئی ترجمان ہوگا۔ اللہ پوچھے گا: کیا میں نے تجھے مال نہ دیا تھا؟ وہ کہے گا: کیوں نہیں، اللہ پوچھے گا: کیا میں نے رسول مبعوث نہ کیے تھے؟ بندہ کہے گا: کیوں نہیں، بندہ اپنے دائیں بائیں دیکھے گا تو آگ ہی آگ نظر آئے گی، لہٰذا تم میں سے ہر ایک اپنے آپ کو آگ سے بچا لے اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی دے۔ اگر یہ بھی نہ پائے تو اچھی بات کہہ دے۔“