السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: من لم ير الإحلال بالإحصار بالمرض باب: ان کا بیان جو بیماری کی وجہ سے روکے جانے پر حلال ہونے کے قائل نہیں۔
حدیث نمبر: 10097
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ ⦗٣٦٠⦘ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: " مَا نَعْلَمُ حَرَامًا يَحِلَّهُ إِلَّا الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ " وَمَا نَذْكُرُهُ إِنْ شَاءَ اللهُ فِي مَسْأَلَةِ الِاسْتِثْنَاءِ فِي الْحَجِّ دَلِيلٌ فِي هَذِهِ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.حافظ ثناء اللہ
قاسم بن محمد رحمہ اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ ہمیں کوئی ایسی چیز معلوم نہیں جو محرم کو حلال کرے سوائے بیت اللہ کے طواف کے۔
اور حج میں استثناء (شرط لگانے) کے مسئلہ میں جو ہم ان شاء اللہ ذکر کریں گے وہ اس بارے میں دلیل ہے، اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔