السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: المحصر يذبح ويحل حيث أحصر باب: محصر (جسے روک دیا گیا ہو) وہیں قربانی کرے گا اور حلال ہو جائے گا جہاں اسے روکا گیا ہو۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنا أَبُو عُمَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً، يَقُولُ: " كَانَ مَنْزِلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ فِي الْحَرَّةِ وَفِيهَا نَحَرَ الْهَدْيَ " قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَإِنَّمَا ذَهَبْنَا إِلَى أَنَّهُ نَحَرَ فِي الْحِلِّ؛ لِأَنَّ اللهَ تَعَالَى يَقُولُ: {هُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْهَدْيَ مَعْكُوفًا أَنْ يَبْلُغَ مَحِلَّهُ} [الفتح: ٢٥] وَالْحَرَمُ كُلُّهُ مَحِلُّهُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَالْحُدَيْبِيَةُ مَوْضِعٌ مِنَ الْأَرْضِ مِنْهُ مَا هُوَ فِي الْحِلِّ وَمِنْهُ مَا هُوَ فِي الْحَرَمِ فَإِنَّمَا نَحَرَ الْهَدْيَ عِنْدَنَا فِي الْحِلِّ وَفِيهِ مَسْجِدُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي بُويِعَ فِيهِ تَحْتَ الشَّجَرَةِ، فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى: {لَقَدْ رَضِيَ اللهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ} [الفتح: ١٨]، وَقَالَ فِي قَوْلِهِ {وَلَا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ} مَحِلُّهُ وَاللهُ أَعْلَمُ هَا هُنَا يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ إِذَا أُحْصِرَ نَحَرَ حَيْثُ أُحْصِرَ، وَمِحَلُّهُ فِي غَيْرِ الْإِحْصَارِ الْحَرَمُ وَالْمَنْحَرُ، وَهُوَ كَلَامٌ عَرَبِيٌّ وَاسِعٌ، قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَا يَدُلُّ عَلَى صِحَّةِ ذَلِكَ.ابوعمیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عطاء سے سنا کہ نبی ﷺ کے پڑاؤ کی جگہ حدیبیہ میں حرہ تھی، وہاں آپ ﷺ نے قربانی کی۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم نے یہ موقف کہ آپ ﷺ نے قربانی حل میں کی ہے، صرف اس لیے اختیار کیا ہے کہ اللہ کا ارشاد ہے: ﴿ہُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدُّوکُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْہَدْیَ مَعْکُوفًا اَنْ یَّبْلُغَ مَحِلَّہُ﴾ [سورة الفتح: 25] ”جنہوں نے کفر کیا اور ادب والی مسجد سے تم کو روکا اور قربانی کے جانوروں کو بھی تھما دیا۔ وہ اپنی جگہ نہ پہنچ سکے“ اور اہل علم کے نزدیک پورا حرم قربان گاہ ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حدیبیہ ایسی جگہ ہے جس کا کچھ حصہ حل میں اور کچھ حرم میں واقع ہے، اور ہمارے نزدیک نبی ﷺ نے حل میں قربانی کی، اور وہیں نبی ﷺ کی وہ مسجد ہے جہاں درخت کے پاس بیعت کی گئی، تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا: ﴿لَقَدْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِِذْ یُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ﴾ [سورة الفتح: 18] ”اللہ ان مسلمانوں سے راضی ہو چکا، جب وہ (کیکر یا بیری کے) درخت کے تلے (حدیبیہ میں) تجھ سے بیعت کر رہے تھے۔“ اور ﴿وَلَا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتَّىٰ يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ﴾ [سورة البقرة: 196] ”اور تم اپنے سر نہ منڈواؤ جب تک قربانی اپنی جگہ پر نہ پہنچ جائے۔“ کے بارے میں فرمایا: یہاں اس کی جگہ سے مراد، واللہ اعلم، یہ معلوم ہوتی ہے کہ جہاں پر روک دیا جائے وہیں قربانی کر دی جائے اور بغیر روکے قربانی کی جگہ حرم اور قربان گاہ ہے، اور یہ وسیع عربی کلام ہے۔ [صحیح]
شیخ (بیہقی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسی روایت مروی ہے جو اس کے صحیح ہونے پر دلالت کرتی ہے۔