السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: المحصر يذبح ويحل حيث أحصر باب: محصر (جسے روک دیا گیا ہو) وہیں قربانی کرے گا اور حلال ہو جائے گا جہاں اسے روکا گیا ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ذَرٍّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: " اعْتَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ عُمَرٍ كُلُّهَا فِي ذِي الْقَعْدَةِ مِنْهَا الْعُمْرَةُ الَّتِي صُدَّ فِيهَا الْهَدْيُ، فَرَاسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ مَكَّةَ فَصَالَحُوهُ عَلَى أَنْ يَرْجِعَ عَنْهُمْ فِي عَامِهِ ذَلِكَ "، قَالَ: " فَنَحَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْهَدْيَ بِالْحُدَيْبِيَةِ حَيْثُ حَلَّ عِنْدَ الشَّجَرَةِ وَانْصَرَفَ ".ابوعمیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عطاء سے سنا کہ نبی ﷺ کے پڑاؤ کی جگہ حدیبیہ میں حرہ تھی، وہاں آپ ﷺ نے قربانی کی۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے قربانی حل میں کی ہے۔ اللہ کا ارشاد ہے: ﴿ہُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدُّوکُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْہَدْیَ مَعْکُوفًا اَنْ یَّبْلُغَ مَحِلَّہُ﴾ [سورة الفتح: 25] ”جنہوں نے کفر کیا اور ادب والی مسجد سے تم کو روکا اور قربانی کے جانوروں کو بھی تھما دیا۔ وہ اپنی جگہ نہ پہنچ سکے“ اور اہل علم کے نزدیک حرم تو پوری قربان گاہ ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حدیبیہ حل میں واقع ہے اور نبی ﷺ نے حل میں قربانی کی اور جہاں درخت کے پاس بیعت کی گئی، وہاں نبی ﷺ کی مسجد ہے۔ اللہ کا فرمان ہے: ﴿لَقَدْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِِذْ یُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ﴾ [سورة الفتح: 18] ”اللہ ان مسلمانوں سے راضی ہو چکا، جب وہ (کیکر یا بیری کے) درخت کے تلے (حدیبیہ میں) تجھ سے بیعت کر رہے تھے۔“ ﴿وَلَا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتَّىٰ يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ﴾ [سورة البقرة: 196] ”اور تم اپنے سر نہ منڈواؤ جب تک قربانی اپنی جگہ پر نہ پہنچ جائے۔“ جہاں پر روک دیا جائے وہیں قربانی کر دی جائے اور بغیر روکے قربانی کی جگہ حرم ہے۔ [صحیح]