❮
❯
حدیث نمبر: 10086
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ذَرٍّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: " اعْتَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ عُمَرٍ كُلُّهَا فِي ذِي الْقَعْدَةِ مِنْهَا الْعُمْرَةُ الَّتِي صُدَّ فِيهَا الْهَدْيُ، فَرَاسَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ مَكَّةَ فَصَالَحُوهُ عَلَى أَنْ يَرْجِعَ عَنْهُمْ فِي عَامِهِ ذَلِكَ "، قَالَ: " فَنَحَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْهَدْيَ بِالْحُدَيْبِيَةِ حَيْثُ حَلَّ عِنْدَ الشَّجَرَةِ وَانْصَرَفَ ".
حافظ ثناء اللہ

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے تین عمرے کیے، سب ذی القعدہ میں تھے۔ ان میں سے ایک وہ عمرہ ہے جس میں قربانی روک دی گئی، تو رسول اللہ ﷺ نے اہل مکہ کو پیغام روانہ کیا تو انہوں نے آپ سے اس شرط پر صلح کی کہ آپ ﷺ اس سال ان کے پاس سے واپس چلے جائیں گے۔ فرماتے ہیں: تو رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ کے مقام پر قربانی کی، جہاں آپ نے درخت کے پاس قیام کیا تھا، پھر آپ ﷺ واپس آئے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10086