السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: المحصر يذبح ويحل حيث أحصر باب: محصر (جسے روک دیا گیا ہو) وہیں قربانی کرے گا اور حلال ہو جائے گا جہاں اسے روکا گیا ہو۔
حدیث نمبر: 10085
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، وَعَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَا: ثنا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرِ بْنِ سَلْمٍ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَمَّا رَجَعْنَا مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ وَأَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَالَطُوا الْحُزْنَ وَالْكَآبَةَ حَيْثُ ذَبَحُوا هَدْيَهُمْ فِي أَمْكِنَتِهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آيَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنَ الدُّنْيَا جَمِيعًا " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے تین عمرے ذی القعدہ میں کیے۔ ایک وہ عمرہ جس میں نبی ﷺ کی قربانی روک دی گئی اور آپ ﷺ نے اہل مکہ کو پیغام روانہ کیا تو انہوں نے صلح کی کہ آپ ﷺ آئندہ سال عمرہ کریں، تو رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ کے مقام پر قربانی کی، جہاں آپ نے درخت کے پاس قیام کیا تھا، پھر آپ ﷺ واپس آئے۔