السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: المحصر يذبح ويحل حيث أحصر باب: محصر (جسے روک دیا گیا ہو) وہیں قربانی کرے گا اور حلال ہو جائے گا جہاں اسے روکا گیا ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ بْنُ تَوْبَةَ، ثنا أَبُو بَدْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ يُحَدِّثُ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبْدِ اللهِ، وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللهِ كَلَّمَا عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ لَيَالِيَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ فَقَالَا: لَا يَضُرُّكُ أَنْ لَا تَحُجَّ الْعَامَ، إِنَّا نَخَافُ أَنْ يُحَالَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْبَيْتِ، فَقَالَ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَمِرِينَ فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ دُونَ الْبَيْتِ فَنَحَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدْيَهُ، وَحَلَقَ رَأْسَهُ، ثُمَّ رَجَعَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ أَبِي بَدْرٍ.نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبیداللہ بن عبداللہ رحمہ اللہ اور سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ نے ان کو بتایا کہ ان دونوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے گفتگو کی جب سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس لشکر آیا تھا، وہ ابھی قتل نہ ہوئے تھے۔ ان دونوں نے کہا: آپ کو نقصان نہ ہوگا اگر آپ اس سال حج نہ کریں، کیوں کہ ہمیں ڈر ہے کہ آپ کے اور بیت اللہ کے درمیان رکاوٹ حائل کر دی جائے گی، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے تو مشرکین مکہ بیت اللہ کے درمیان رکاوٹ بن گئے تھے۔ نبی ﷺ نے قربانی کی، سر منڈایا اور فرمایا: میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے عمرہ کو اپنے اوپر واجب کر لیا ہے، ان شاء اللہ اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان رکاوٹ نہ ہوئی تو بیت اللہ کا طواف کروں گا، اگر رکاوٹ بن گئی تو پھر ویسا ہی کروں گا جیسے رسول اللہ ﷺ نے کیا تھا اور میں آپ ﷺ کے ساتھ تھا۔ آپ ﷺ نے ذوالحلیفہ میں عمرہ کا احرام باندھا پھر تھوڑا سا چلے اور فرمایا: ”ان دونوں (حج و عمرہ) کی ایک ہی حالت ہے“ اور فرمایا: میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے حج کو بھی اپنے عمرہ کے ساتھ واجب کر لیا ہے۔ پھر آپ ﷺ قربانی کے دن حلال ہوئے تھے اور آپ نے قربانی کی اور فرمایا: ”جس نے حج و عمرہ کا اکٹھا احرام باندھا تو وہ قربانی کے دن ہی حلال ہوگا اور حج و عمرہ کا ایک ہی طواف کرے گا اور صفا و مروہ کی سعی کرے گا جس دن مکہ میں داخل ہوگا۔“
(ب) عبداللہ بن محمد بن اسماء رحمہ اللہ کہتے ہیں: جس دن مکہ میں داخل ہوا اور صفا و مروہ کی طرف واپس آیا۔ یعنی اللہ خوب جانتا ہے کہ حج و عمرہ سے صرف ایک طواف کفایت کر جائے گا طوافِ قدوم کے بعد، پھر دوسری حلت بیت اللہ کے بعد ہوگی قربانی کے دن۔