❮
❯
حدیث نمبر: 10019
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ الصَّيْرَفِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا ⦗٣٤٠⦘ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، ثنا مَطَرٌ الْوَرَّاقُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ قُرَّةَ، حَدَّثَهُمْ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ أَنَّ رَجُلًا، مُحْرِمًا أَوْطَأَ رَاحِلَتَهُ أُدْحِيَّ نَعَامٍ فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ عَلِيٌّ: عَلَيْكَ فِي كُلِّ بَيْضَةٍ ضِرَابُ نَاقَةٍ أَوْ جَنِينُ نَاقَةٍ، فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ إِلَى نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ مَا قَالَ عَلِيٌ، فَقَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَدْ قَالَ عَلِيٌّ مَا تَسْمَعُ، وَلَكِنْ هَلُمَّ إِلَى الرُّخْصَةِ عَلَيْكَ فِي كُلِّ بَيْضَةٍ صِيَامُ يَوْمٍ، أَوْ إِطْعَامُ مِسْكِينٍ ".
حافظ ثناء اللہ

معاویہ بن قرہ ایک انصاری آدمی سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک محرم آدمی کی سواری نے شتر مرغ کے انڈوں کے گھونسلے کو روند ڈالا۔ وہ آدمی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس چلا گیا اور اس بارے میں سوال کیا، حضرت علی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: تم پر ہر انڈے کے عوض ایک اونٹنی کی جفتی یا اونٹنی کے پیٹ والا بچہ ہے۔ وہ آدمی نبی ﷺ کے پاس گیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ والی بات بتلائی تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”حضرت علی (رضی اللہ عنہ) نے جو کہا وہ تو نے سن لیا، لیکن رخصت کی طرف آؤ: تم پر ہر انڈے کے عوض ایک دن کا روزہ یا ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10019
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ انظر قبله»