حدیث نمبر: 10017
قَالَ الرَّبِيعُ: قُلْتُ لِلشَّافِعِيِّ: هَلْ تَرْوِي فِيهَا شَيْئًا عَالِيًا؟ فَقَالَ: أَمَّا شَيْءٌ يَثْبُتُ مِثْلُهُ فَلَا، فَقُلْتُ: مَا هُوَ؟ قَالَ: أَخْبَرَنِي الثِّقَةُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " فِي بَيْضَةِ النَّعَامَةِ يُصِيبُهَا الْمُحْرِمُ قِيمَتُهَا " قُلْتُ: قَدْ رُوِيَ هَذَا مَوْصُولًا إِلَّا أَنَّهُ مُخْتَلَفٌ فِيهِ.
حافظ ثناء اللہ

امام ربیع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے امام شافعی رحمہ اللہ سے پوچھا: کیا آپ اس بارے میں کوئی عالی سند والی روایت بیان کرتے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: ”ایسی کوئی چیز نہیں جس کی اس جیسی کوئی سند ثابت ہو۔“ میں نے عرض کیا: وہ روایت کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”مجھے ایک ثقہ راوی نے ابوالزناد سے خبر دی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”شتر مرغ کا انڈا جسے کوئی محرم توڑ دے، تو اس میں اس انڈے کی قیمت ادا کرنا لازم ہے۔““ میں نے کہا: یہ روایت موصولاً (متصل سند کے ساتھ) بھی مروی ہے، البتہ اس (کی سند) میں اختلاف پایا جاتا ہے۔

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَزَّازُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي بِيضِ النَّعَامَةِ حَدِيثُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " فِي كُلِّ بِيضٍ صِيَامُ يَوْمٍ أَوْ طَعَامُ مِسْكِينٍ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَصَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ وَغَيْرُهُمَا، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ ﷺ شترمرغ کا انڈہ توڑنے والے شخص پر ایک انڈے کے عوض ایک روزے کا فدیہ مقرر فرماتے تھے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10017
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ انظر قبله»