السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما جاء في كون الجراد من صيد البحر باب: ٹڈی کے سمندری شکار میں سے ہونے کے بارے میں جو مروی ہے۔
حدیث نمبر: 10016
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا زِيَادُ بْنُ الْخَلِيلِ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ أَبِي الْمُهَزِّمِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَصَبْنَا ضَرْبًا مِنْ جَرَادٍ فَكَانَ الرَّجُلُ يَضْرِبُ بِسَوْطِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ هَذَا لَا يَصْلُحُ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنَّمَا هُوَ مِنْ صَيْدِ الْبَحْرِ " رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ عَنْ مُسَدَّدٍ وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَزِّمِ، وَأَبُو الْمُهَزِّمِ يَزِيدُ بْنُ سُفْيَانَ ضَعِيفٌ، ⦗٣٣٩⦘ وَمَيْمُونُ بْنُ جَابَانَ غَيْرُ مَعْرُوفٍ، وَاللهُ أَعْلَمُ، وَقَدْ قِيلَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ مَيْمُونٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ كَعْبٍ مِنْ قَوْلِهِ.حافظ ثناء اللہ
ابومہزم سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ ہم نے ٹڈی کی ایک قسم پائی، ایک آدمی محرم ہونے کی حالت میں اپنے کوڑے سے انہیں مار رہا تھا، اس سے کہا گیا: یہ درست نہیں ہے۔ یہ بات نبی ﷺ کے سامنے ذکر کی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تو سمندری شکار ہی ہے۔“
ابومہزم یزید بن سفیان ضعیف ہے اور میمون بن جابان معروف نہیں ہے، واللہ اعلم۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ حماد بن سلمہ سے، انہوں نے میمون سے، انہوں نے ابورافع سے، انہوں نے کعب سے ان کے اپنے قول کے طور پر مروی ہے۔