السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: ذكر الروايات في كيفية التيمم عن عمار بن ياسر رضي الله عنه باب: سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے تیمم کی کیفیت کے بارے میں مروی روایات کا ذکر
أَخْبَرَنَا الْأُسْتَاذُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، قَالَ: " هَلَكَ عِقْدٌ لِعَائِشَةَ مِنْ جَزْعِ ظَفَارٍ فِي سَفَرٍ مِنْ أَسْفَارِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَائِشَةُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ السَّفَرِ فَالْتَمَسَتْ عَائِشَةُ عِقْدَهَا حَتَّى انْتَهَى اللَّيْلُ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَتَغَيَّظَ عَلَيْهَا، وَقَالَ: حَبَسْتِ النَّاسَ بِمَكَانٍ لَيْسَ فِيهِ مَاءٌ قَالَ: فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى آيَةَ الصَّعِيدِ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ: أَنْتِ وَاللهِ يَا بُنَيَّةُ مَا عَلِمْتُ مُبَارَكَةٌ قَالَ عُبَيْدُ اللهِ: وَكَانَ عَمَّارٌ يُحَدِّثُ أَنَّ النَّاسَ طَفِقُوا يَوْمَئِذٍ يَمْسَحُونَ بِأَكُفِّهِمُ الْأَرْضَ، فَيَمْسَحُونَ وُجُوهَهُمْ، ثُمَّ يَعُودُونَ فَيَضْرِبُونَ ضَرْبَةً أُخْرَى فَيَمْسَحُونَ بِهَا أَيْدِيهِمْ إِلَى الْمَنَاكِبِ وَالْآبَاطِ، ثُمَّ يُصَلُّونَ " وَكَذَلِكَ. رَوَاهُ مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَيْلِيُّ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ وَابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ، وَجَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ عَمَّارٍ، وَحَفِظَ فِيهِ مَعْمَرٌ وَيُونُسُ ضَرْبَتَيْنِ كَمَا حَفِظَهُمَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ.سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے کسی سفر میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا ظفار کے گھونگوں کا بنا ہوا ہار گم ہو گیا اور اس سفر میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھیں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنا ہار تلاش کیا حتیٰ کہ آدھی رات گزر گئی، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور ان سے ناراض ہوئے اور کہا: تو نے لوگوں کو ایسی جگہ پر روک دیا ہے جہاں پانی بھی نہیں ہے۔ راوی کہتا ہے کہ آیۃ الصعید (تیمم) نازل ہوئی، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور کہا: اللہ کی قسم! اے بیٹی! مجھے علم نہیں تھا کہ اس میں خیر و برکت ہے۔ عبید اللہ کہتے ہیں کہ عمار بیان کرتے ہیں: لوگ اس دن اپنی ہتھیلیوں کو زمین پر مارتے اور اپنے چہروں کا مسح کرتے تھے، پھر دوبارہ مارتے اور اپنے ہاتھوں کا کندھوں اور بغلوں تک مسح کرتے، پھر نماز پڑھتے تھے۔
(ب) ایک دوسری روایت میں معمر اور یونس بھی دو ضربوں کا ذکر کرتے ہیں کہ ابن ابی ذئب نے دو ضربوں کا ذکر کیا ہے۔