صحیح الجامع الصغیر
حرف الياء— حرف یا
الأحاديث المبدوءة بحرف الياء باب: حرف یا سے شروع ہونے والی احادیث
«ينزل ناس من أمتي بغائط يسمونه البصرة عند نهر يقال له: دجلة يكون عليه جسر يكثر أهلها وتكون من أمصار المسلمين فإذا كان في آخر الزمان جاء بنوقنطوراء قوم عراض الوجوه صغار الأعين حتى ينزلوا على شط النهر فيتفرق أهلها ثلاث فرق فرقة يأخذون أذناب البقر والبرية وهلكوا وفرقة يأخذون لأنفسهم وكفروا وفرقة يجعلون ذراريهم خلف ظهورهم ويقاتلونهم وهم الشهداء»(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میری امت کے کچھ لوگ ایک نشیبی زمین میں اتریں گے جسے وہ بصرہ کہیں گے، ایک نہر کے پاس جسے دجلہ کہا جاتا ہے، اس پر ایک پل ہو گا، اس کے باشندے بہت زیادہ ہوں گے اور یہ مسلمانوں کے شہروں میں سے ایک ہو گا۔ پھر آخری زمانے میں بنو قنطوراء آئیں گے، ایسے لوگ جن کے چہرے چوڑے اور آنکھیں چھوٹی ہوں گی، یہاں تک کہ وہ نہر کے کنارے اتریں گے، تو اس کے باشندے تین گروہوں میں تقسیم ہو جائیں گے: ایک گروہ گائے کی دُموں اور جنگل کو پکڑ لے گا اور ہلاک ہو جائے گا، ایک گروہ اپنی جانوں کے لیے (سمجھوتہ کر لے گا) اور کفر کرے گا، اور ایک گروہ اپنی اولاد کو اپنے پیچھے رکھ کر ان سے لڑے گا، اور وہی شہید ہوں گے۔“