صحیح الجامع الصغیر
حرف الياء— حرف یا
الأحاديث المبدوءة بحرف الياء باب: حرف یا سے شروع ہونے والی احادیث
" يخرج الدجال في أمتي فيمكث أربعين فيبعث الله تعالى عيسى ابن مريم كأنه عروة ابن مسعود الثقفي فيطلبه فيهلكه ثم يمكث الناس سبع سنين ليس بين اثنين عدأوة ثم يرسل الله ريحا باردة من قبل الشام فلا يبقى على وجه الأرض أحد في قلبه مثقال ذرة من إيمان إلا قبضته حتى لوأن أحدكم دخل في كبد جبل لدخلت عليه حتى تقبضه فيبقى شرار الناس في خفة الطير وأحلام السباع لا يعرفون معروفا ولا ينكرون منكرا فيتمثل لهم الشيطان فيقول: ألا تستجيبون؟ فيقولون: بم تأمرنا؟ فيأمرهم بعبادة الأوثان فيعبدونها وهم في ذلك دار رزقهم حسن عيشهم ثم ينفخ في الصور فلا يسمعه أحد إلا أصغى ليتا ورفع ليتا وأول من يسمعه رجل يلوط حوض إبله فيصعق ويصعق الناس ثم يرسل الله مطرا كأنه الطل فينبت منه أجساد الناس ثم ينفخ فيه أخرى فإذا هم قيام ينظرون ثم؟ يقال: يا أيها الناس! هلم إلى ربكم {وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْؤُولُونَ} ثم يقال: أخرجوا بعث النار فيقال: من كم؟ فيقال: من كل ألف تسعمائة وتسعة وتسعون فذلك يوم يجعل الولدان شيبا وذلك يوم يكشف عن ساق"(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”دجال میری امت میں نکلے گا اور چالیس رہے گا، پھر اللہ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کو بھیجے گا، جو عروہ بن مسعود ثقفی جیسے ہوں گے، وہ اس کی تلاش کر کے اسے ہلاک کر دیں گے۔ پھر لوگ سات سال تک رہیں گے، اس دوران دو آدمیوں کے درمیان بھی کوئی دشمنی نہیں ہو گی۔ پھر اللہ شام کی طرف سے ایک ٹھنڈی ہوا بھیجے گا، تو زمین پر کوئی ایسا شخص باقی نہیں رہے گا جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو مگر وہ ہوا اس کی روح قبض کر لے گی، یہاں تک کہ اگر تم میں سے کوئی پہاڑ کے اندر بھی چلا جائے تو وہ ہوا وہاں بھی داخل ہو کر اس کی روح قبض کر لے گی۔ تو صرف بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے، وہ پرندوں جیسے ہلکے اور درندوں جیسے بے عقل ہوں گے، نہ نیکی پہچانیں گے اور نہ برائی کو برا سمجھیں گے۔ تو شیطان ان کے سامنے آ کر کہے گا: کیا تم میری بات نہیں مانو گے؟ وہ کہیں گے: تم ہمیں کیا حکم دیتے ہو؟ تو وہ انہیں بتوں کی پرستش کا حکم دے گا، تو وہ ان کی پرستش کرنے لگیں گے، اور اسی دوران ان کا رزق فراخ اور ان کی زندگی خوشحال ہو گی۔ پھر صور پھونکا جائے گا، تو کوئی بھی اسے سنے گا مگر وہ اپنا ایک کان جھکائے گا اور دوسرا اٹھائے گا، اور سب سے پہلے اسے سننے والا وہ آدمی ہو گا جو اپنے اونٹوں کے حوض کی مرمت کر رہا ہو گا، تو وہ بے ہوش ہو جائے گا اور سب لوگ بھی بے ہوش ہو جائیں گے۔ پھر اللہ اوس جیسی بارش بھیجے گا جس سے لوگوں کے جسم اگیں گے، پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو وہ سب کھڑے ہو کر دیکھنے لگیں گے۔ پھر کہا جائے گا: اے لوگو! اپنے رب کی طرف چلو، انہیں روک لو، بے شک ان سے پوچھ گچھ کی جانی ہے۔ پھر کہا جائے گا: جہنم کا حصہ نکالو۔ پوچھا جائے گا: کتنے میں سے؟ کہا جائے گا: ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ یہی وہ دن ہو گا جب چھوٹے بچے بوڑھے ہو جائیں گے، اور یہی وہ دن ہو گا جب پنڈلی کھول دی جائے گی۔“