صحیح الجامع الصغیر
حرف الياء— حرف یا
الأحاديث المبدوءة بحرف الياء باب: حرف یا سے شروع ہونے والی احادیث
«يخرج الدجال فيتوجه قبله رجل من المؤمنين فيلقاه المسالح مسالح الدجال فيقولون له: أين تعمد؟ فيقول: أعمد إلى هذا الذي خرج فيقولون له: أوما تؤمن بربنا؟ فيقول: ما بربنا خفاء فيقولون: اقتلوه فيقول بعضهم لبعض: أليس قد نهاكم ربكم أن تقتلوا أحد دونه؟ فينطلقون به إلى الدجال فإذا رآه المؤمن قال: يا أيها الناس هذا الدجال الذي ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم فيأمر الدجال به فيشبح فيقول: خذوه وشجوه فيوسع بطنه وظهره ضربا فيقول: أما تؤمن بي؟ فيقول: أنت المسيح الكذاب فيؤمر به فينشر بالمنشار من مفرقه حتى يفرق بين رجليه ثم يمشي الدجال بين القطعتين ثم يقول له: قم فيستوى قائما ثم يقول له: أتؤمن بي؟ فيقول: ما ازددت فيك إلا بصيرة ثم يقول: يا أيها الناس إنه لا يفعل بعدي بأحد من الناس فيأخذه الدجال فيذبحه فيجعل ما بين رقبته إلى ترقوته نحاسا فلا يستطيع إليه سبيلا فيأخذ بيديه ورجليه فيقذف به فيحسب الناس أنما قذفه في النار وإنما ألقي في الجنة هذا أعظم الناس شهادة عند رب العالمين»(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”دجال نکلے گا تو مومنوں میں سے ایک آدمی اس کی طرف چل پڑے گا، تو اسے دجال کے پہرے دار مل جائیں گے، وہ اس سے کہیں گے: تم کہاں کا ارادہ رکھتے ہو؟ وہ کہے گا: میں اس دجال کی طرف جا رہا ہوں جو نکلا ہے۔ وہ کہیں گے: کیا تم ہمارے رب پر ایمان نہیں لاتے؟ وہ کہے گا: ہمارے رب کے حق ہونے میں کوئی پوشیدگی نہیں۔ وہ کہیں گے: اسے قتل کر دو۔ پھر وہ آپس میں کہیں گے: کیا تمہارے رب نے تمہیں اس کے بغیر کسی کو قتل کرنے سے منع نہیں کیا؟ تو وہ اسے دجال کے پاس لے جائیں گے۔ جب مومن اسے دیکھے گا تو کہے گا: اے لوگو! یہ وہی دجال ہے جس کا ذکر رسول اللہ ﷺ نے کیا تھا۔ تو دجال اس کے بارے میں حکم دے گا تو اسے لٹا دیا جائے گا، وہ کہے گا: اسے پکڑو اور زخمی کرو۔ تو اس کے پیٹ اور پیٹھ پر خوب مار پڑے گی۔ پھر دجال کہے گا: کیا اب بھی مجھ پر ایمان نہیں لاتے؟ وہ کہے گا: تم جھوٹے مسیح ہو۔ تو اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا اور اسے سر کے بیچ سے آری سے چیر دیا جائے گا یہاں تک کہ اس کی دونوں ٹانگوں تک الگ کر دیا جائے گا۔ پھر دجال دونوں ٹکڑوں کے درمیان چلے گا، پھر اس سے کہے گا: کھڑے ہو جاؤ۔ تو وہ سیدھا کھڑا ہو جائے گا۔ پھر وہ اس سے کہے گا: کیا اب مجھ پر ایمان لاتے ہو؟ وہ کہے گا: تمہارے بارے میں اب میری بصیرت اور بڑھ گئی ہے۔ پھر وہ کہے گا: اے لوگو! میرے بعد یہ کسی اور آدمی کے ساتھ ایسا نہیں کر سکے گا۔ تو دجال اسے پکڑ کر ذبح کرنا چاہے گا، مگر اس کی گردن سے کندھے تک کا حصہ تانبے کا بنا دیا جائے گا، تو وہ اس تک پہنچنے کا کوئی راستہ نہیں پائے گا۔ تو وہ اس کے ہاتھ اور پاؤں پکڑ کر اسے پھینک دے گا، لوگ سمجھیں گے کہ اسے آگ میں پھینکا گیا ہے، حالانکہ وہ حقیقت میں جنت میں ڈالا گیا ہو گا۔ یہ شخص رب العالمین کے نزدیک سب لوگوں میں سب سے بڑا گواہ ہو گا۔“