صحیح الجامع الصغیر
حرف الياء— حرف یا
الأحاديث المبدوءة بحرف الياء باب: حرف یا سے شروع ہونے والی احادیث
" يجمع المؤمنون يوم القيامة فيهتمون لذلك فيقولون: لو استشفعنا على ربنا فأراحنا من مكاننا هذا فيأتون آدم فيقولون: يا آدم! أنت أبو البشر خلقك الله بيده وأسجد لك ملائكته وعلمك أسماء كل شيء فاشفع لنا عند ربك حتى يريحنا من مكاننا هذا فيقول لهم آدم: لست هناكم ويذكر ذنبه الذي أصابه فيستحي ربه عز وجل من ذلك ويقول: ولكن ائتوا نوحا فإنه أول رسول بعثه الله إلى أهل الأرض فيأتون نوحا فيقول: لست هناكم ويذكر لهم خطيئة سؤاله ربه ما ليس له به علم فيستحي ربه من ذلك ولكن ائتوا إبراهيم خليل الرحمن فيأتونه فيقول: لست هناكم ولكن ائتوا موسى عبدا كلمه الله وأعطاه التوراة فيأتون موسى فيقول: لست هناكم ويذكر لهم النفس التي قتل بغير نفس فيستحي ربه من ذلك ولكن ائتوا عيسى عبد الله ورسوله وكلمته وروحه فيأتون عيسى فيقول لهم: لست هناكم ولكن ائتوا محمدا عبدا غفر الله له ما تقدم من ذنبه وما تأخر فأقوم فأمشي بين سماطين من المؤمنين حتى استأذن على ربي فيؤذن لي فإذا رأيت ربي وقعت ساجدا لربي تبارك وتعالى فيدعني ما شاء أن يدعني ثم يقول: ارفع محمد قل يسمع وسل تعطه واشفع تشفع فأرفع رأسي فأحمده بتحميد يعلمنيه ثم أشفع فيحد لي حدا فأدخلهم الجنة ثم أعود إليه الثانية فإذا رأيت ربي وقعت ساجدا لربي تبارك وتعالى فيدعني ما شاء الله أن يدعني ثم يقول: ارفع محمد! قل يسمع وسل تعطه واشفع تشفع فأرفع رأسي فأحمده بتحميد يعلمنيه ثم أشفع فيحد لي حدا فأدخلهم الجنة ثم أعود الثالثة فإذا رأيت ربي تبارك وتعالى وقعت ساجدا لربي فيدعني ما شاء أن يدعني ثم يقول: ارفع محمد! قل يسمع وسل تعطه واشفع تشفع فإذا رفعت رأسي فأحمده بتحميد يعلمنيه ثم أشفع فيحد لي حدا فأدخلهم الجنة ثم أعود الرابعة فأقول: يا رب! ما بقي إلا من حبسه القرآن فيخرج من النار من قال: لا إله إلا الله وكان في قلبه من الخير ما يزن شعيرة ثم يخرج من النار من قال: لا إله إلا الله وكان في قلبه من الخير ما يزن برة ثم يخرج من النار من قال: لا إله إلا الله وكان في قلبه من الخير ما يزن ذرة "(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مومنوں کو قیامت کے دن جمع کیا جائے گا تو وہ اس سے پریشان ہو کر کہیں گے: کاش ہم اپنے رب کے حضور کسی کی سفارش تلاش کریں تاکہ وہ ہمیں اس جگہ سے راحت دے۔ تو وہ آدم علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے: اے آدم! آپ انسانیت کے باپ ہیں، اللہ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اپنے فرشتوں کو آپ کو سجدہ کرایا اور آپ کو ہر چیز کے نام سکھائے، پس ہماری اپنے رب کے حضور سفارش کریں تاکہ وہ ہمیں اس جگہ سے راحت دے۔ آدم علیہ السلام کہیں گے: میں اس کا اہل نہیں - اور وہ اپنی اس غلطی کو یاد کریں گے جو ان سے سرزد ہوئی تھی، تو انہیں اپنے رب سے شرم آئے گی - اور کہیں گے: تم نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ، کیونکہ وہ پہلے رسول ہیں جنہیں اللہ نے زمین والوں کی طرف بھیجا۔ تو وہ نوح علیہ السلام کے پاس جائیں گے، تو وہ کہیں گے: میں اس کا اہل نہیں - اور وہ انہیں اپنی وہ غلطی یاد دلائیں گے جو انہوں نے اپنے رب سے ایسی چیز مانگ کر کی تھی جس کا انہیں علم نہیں تھا، تو انہیں اپنے رب سے شرم آئے گی - اور کہیں گے: تم ابراہیم خلیل الرحمن کے پاس جاؤ۔ تو وہ ان کے پاس جائیں گے، تو وہ کہیں گے: میں اس کا اہل نہیں، تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ، جن سے اللہ نے براہِ راست بات کی اور انہیں تورات دی۔ تو وہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے، تو وہ کہیں گے: میں اس کا اہل نہیں - اور وہ انہیں اس جان کا واقعہ یاد دلائیں گے جسے انہوں نے بلا قصاص قتل کیا تھا، تو انہیں اپنے رب سے شرم آئے گی - اور کہیں گے: تم عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ، جو اللہ کے بندے، اس کے رسول، اس کا کلمہ اور اس کی روح ہیں۔ تو وہ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جائیں گے، تو وہ کہیں گے: میں اس کا اہل نہیں، تم محمد ﷺ کے پاس جاؤ، ایسے بندے جن کے اگلے پچھلے سب گناہ اللہ نے معاف کر دیے ہیں۔ تو میں اٹھوں گا اور مومنوں کی دو صفوں کے درمیان چل کر اپنے رب سے حاضری کی اجازت مانگوں گا تو مجھے اجازت دی جائے گی۔ پس جب میں اپنے رب کو دیکھوں گا تو اپنے رب تبارک و تعالیٰ کے سامنے سجدے میں گر جاؤں گا، تو وہ مجھے جتنی دیر چاہے گا اسی حالت میں چھوڑے گا، پھر فرمائے گا: اے محمد! سر اٹھاؤ، بات کرو تمہاری سنی جائے گی، مانگو تمہیں دیا جائے گا، سفارش کرو تمہاری سفارش قبول کی جائے گی۔ تو میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور اپنے رب کی ایسی حمد بیان کروں گا جو وہ خود مجھے سکھائے گا، پھر سفارش کروں گا تو میرے لیے ایک حد مقرر کر دی جائے گی، تو میں انہیں جنت میں داخل کروں گا۔ پھر میں دوبارہ سجدے میں لوٹوں گا، تو جب اپنے رب کو دیکھوں گا تو اپنے رب تبارک و تعالیٰ کے سامنے سجدے میں گر جاؤں گا، تو وہ مجھے جتنی دیر چاہے گا اسی حالت میں چھوڑے گا، پھر فرمائے گا: اے محمد! سر اٹھاؤ، بات کرو تمہاری سنی جائے گی، مانگو تمہیں دیا جائے گا، سفارش کرو تمہاری سفارش قبول کی جائے گی۔ تو میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور اپنے رب کی ایسی حمد بیان کروں گا جو وہ خود مجھے سکھائے گا، پھر سفارش کروں گا تو میرے لیے ایک حد مقرر کر دی جائے گی، تو میں انہیں جنت میں داخل کروں گا۔ پھر میں تیسری بار لوٹوں گا، تو جب اپنے رب تبارک و تعالیٰ کو دیکھوں گا تو اپنے رب کے سامنے سجدے میں گر جاؤں گا، تو وہ مجھے جتنی دیر چاہے گا اسی حالت میں چھوڑے گا، پھر فرمائے گا: اے محمد! سر اٹھاؤ، بات کرو تمہاری سنی جائے گی، مانگو تمہیں دیا جائے گا، سفارش کرو تمہاری سفارش قبول کی جائے گی۔ تو جب میں اپنا سر اٹھاؤں گا تو اپنے رب کی ایسی حمد بیان کروں گا جو وہ خود مجھے سکھائے گا، پھر سفارش کروں گا تو میرے لیے ایک حد مقرر کر دی جائے گی، تو میں انہیں جنت میں داخل کروں گا۔ پھر میں چوتھی بار لوٹوں گا اور کہوں گا: اے رب! اب صرف وہی باقی رہ گئے ہیں جنہیں قرآن نے روک رکھا ہے۔ پھر جہنم سے وہ شخص نکالا جائے گا جس نے «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» (اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں) کہا اور اس کے دل میں جو کے دانے کے برابر بھی بھلائی تھی، پھر جہنم سے وہ شخص نکالا جائے گا جس نے «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کہا اور اس کے دل میں گندم کے دانے کے برابر بھلائی تھی، پھر جہنم سے وہ شخص نکالا جائے گا جس نے «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» کہا اور اس کے دل میں ذرے کے برابر بھلائی تھی۔“