صحیح الجامع الصغیر
حرف الياء— حرف یا
الأحاديث المبدوءة بحرف الياء باب: حرف یا سے شروع ہونے والی احادیث
" يجمع الله الناس يوم القيامة في صعيد واحد ثم يطلع عليهم رب العالمين فيقول: ألا يتبع كل إنسان ما كان يعبد؟ فيمثل لصاحب الصليب صليبه ولصاحب التصأوير تصأويره ولصاحب النار ناره فيتبعون ما كانوا يعبدون ويبقى المسلمون فيطلع عليهم رب العالمين فيقول: ألا تتبعون الناس؟ فيقولون: نعوذ بالله منك نعوذ بالله منك الله ربنا وهذا مكاننا حتى نرى ربنا وهو يأمرهم ويثبتهم قالوا: وهل نراه يا رسول الله؟ قال: وهل تضارون في رؤية القمر ليلة البدر؟ قالوا: لا قال: فإنكم لا تضارون في رؤيته تلك الساعة ثم يتوارى ثم يطلع فيعرفهم نفسه ثم يقول: أنا ربكم فاتبعوني فيقوم المسلمون ويوضع الصراط فيمر عليه مثل جياد الخيل والركاب وقولهم عليه: سلم سلم ويبقى أهل النار فيطرح فيها منهم فوج ثم يقال: هل امتلأت؟ فتقول: هل من مزيد؟ ثم يطرح فيها فوج فيقال: هل امتلأت؟ فتقول: هل من مزيد؟ حتى إذا أوعبوا فيها وضع الرحمن قدمه فيها وأزوى بعضها إلى بعض ثم قال: قط؟ قالت: قط قط فإذا أدخل الله أهل الجنة الجنة وأهل النار النار أتي بالموت ملببا فيوقف على السور الذي بين أهل الجنة وأهل النار ثم يقال: يا أهل الجنة! فيطلعون خائفين ثم يقال: يا أهل النار! فيطلعون مستبشرين يرجون الشفاعة فيقال لأهل الجنة وأهل النار: هل تعرفون هذا؟ فيقول هؤلاء وهؤلاء: قد عرفناه هو الموت الذي وكل بنا فيضجع فيذبح ذبحا على السور ثم يقال: يا أهل الجنة! خلود لا موت ويا أهل النار! خلود لا موت "(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سب لوگوں کو ایک میدان میں جمع کرے گا، پھر رب العالمین ان پر جلوہ گر ہو گا اور فرمائے گا: کیا ہر انسان اسی کی پیروی نہیں کرے گا جس کی وہ عبادت کیا کرتا تھا؟ تو صلیب والے کے لیے اس کی صلیب، تصویروں والے کے لیے اس کی تصویریں اور آگ پرست کے لیے اس کی آگ ظاہر کر دی جائے گی، تو وہ اسی کی پیروی کریں گے جس کی وہ عبادت کرتے تھے، اور صرف مسلمان باقی رہ جائیں گے۔ رب العالمین ان پر جلوہ گر ہو گا اور فرمائے گا: کیا تم لوگوں کے پیچھے نہیں جاتے؟ وہ کہیں گے: ہم تجھ سے پناہ مانگتے ہیں، ہم تجھ سے پناہ مانگتے ہیں، اللہ ہی ہمارا رب ہے اور ہم اسی جگہ رہیں گے یہاں تک کہ ہم اپنے رب کو دیکھ لیں۔ اللہ انہیں حکم دے گا اور انہیں ثابت قدم رکھے گا۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم اسے دیکھیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا چودھویں رات کے چاند کو دیکھنے میں تمہیں کوئی دقت ہوتی ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تو تمہیں اس گھڑی اسے دیکھنے میں بھی کوئی دقت نہیں ہو گی۔ پھر وہ چھپ جائے گا، پھر ظاہر ہو گا اور انہیں اپنے آپ کو پہچنوائے گا، پھر فرمائے گا: میں تمہارا رب ہوں، میری پیروی کرو۔ تو مسلمان کھڑے ہو جائیں گے، اور پل صراط رکھا جائے گا، تو لوگ اس پر اس طرح گزریں گے جیسے تیز رفتار گھوڑے اور اونٹ گزرتے ہیں، اور ان کا کلمہ اس پر یہ ہو گا: سلم سلم۔ اور جہنمی باقی رہ جائیں گے، تو ان میں سے ایک گروہ جہنم میں پھینکا جائے گا، پھر پوچھا جائے گا: کیا تو بھر گئی؟ وہ کہے گی: کیا کچھ اور بھی ہے؟ پھر ایک اور گروہ پھینکا جائے گا، پھر پوچھا جائے گا: کیا تو بھر گئی؟ وہ کہے گی: کیا کچھ اور بھی ہے؟ یہاں تک کہ جب سب کو اس میں ڈال دیا جائے گا تو رحمان اپنا قدم اس میں رکھے گا، جس سے اس کے کچھ حصے دوسرے حصوں سے سمٹ جائیں گے، پھر فرمائے گا: بس؟ وہ کہے گی: بس، بس۔ پس جب اللہ جنت والوں کو جنت میں اور جہنم والوں کو جہنم میں داخل کر دے گا تو موت کو گردن سے پکڑ کر لایا جائے گا اور اسے جنت اور جہنم والوں کے درمیان کی دیوار پر کھڑا کر دیا جائے گا، پھر کہا جائے گا: اے جنت والو! تو وہ خوفزدہ ہو کر جھانکیں گے، پھر کہا جائے گا: اے جہنم والو! تو وہ سفارش کی امید میں خوش ہو کر جھانکیں گے، پھر جنت اور جہنم والوں سے کہا جائے گا: کیا تم اسے پہچانتے ہو؟ دونوں گروہ کہیں گے: ہاں، ہم نے اسے پہچان لیا، یہ وہی موت ہے جو ہم پر مقرر تھی۔ تو اسے لٹا کر دیوار پر ذبح کر دیا جائے گا، پھر کہا جائے گا: اے جنت والو! اب ہمیشگی ہے، موت نہیں، اور اے جہنم والو! اب ہمیشگی ہے، موت نہیں۔“